رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پشاور سے گزشتہ روز اغواء کئے جانے والے عیسائی براردی کے سولہ افراد کو قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے بازیاب کرالیا گیا ہے۔ بازیابی کے بعد مغویوں کو پولیٹکل ایجنٹ خیبر کے دفتر لایا گیا جہاں سے وہ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ باڑہ خالد کنڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام عیسائی باشندوں کو مقامی جرگوں کے توسط سے بازیاب کرایا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ سنیچر کو پشاور پولیس کی اطلاع پر خیبر ایجنسی کی مقامی انتظامیہ نے علاقے کے روایات کے مطابق بات چیت کا عمل شروع کیا اور کئی گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے بعد تمام مغویوں کو باڑہ کے علاقے سے بازیاب کرالیا گیا۔
انہوں نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی کہ مغویوں کو مقامی شدت پسندوں نے اغواء کیا تھا۔
اتوار کی صبح بازیابی کے بعد تمام مسیحی باشندوں کو پشاور میں واقع پولیٹکل ایجنٹ خیبر کے دفتر لایا گیا جہاں سے وہ اپنے اپنے
گھروں کو چلے گئے۔ بازیاب ہونے والے تمام افراد کا تعلق پشاور سے بتایا جاتا ہے جبکہ ان میں دو پادری بھی شامل ہیں۔
![]() |
|
پترس مسیح کے مطابق آج صبح وہ ناشتہ کررہے تھے کہ انہیں بتایا گیا کہ اپ لوگ رہا ہوگئے اور اس کے بعد انہیں پولیٹکل ایجنٹ خیبر کے دفتر لے جایا گیا۔
بازیاب ہونے والے ایک پادری بشیر شریف نے کہا کہ ’ ہم اکیڈیمی ٹاؤن میں عبادت کررہے تھے کہ کچھ مسلح افراد دو گاڑیوں میں آئے جن میں چند نقاب پوش افراد بھی تھے اور وہاں موجود افراد کو گاڑیوں میں گسیٹ کر اپنے ساتھ لئے گئے۔ ’
انہوں نے کہا کہ اغواء کار بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے لیس تھے۔
واضح رہے کہ سنیچر کی شام پشاور کےعلاقے اکیڈیمی ٹاؤن سے بعض نامعلوم مسلح افراد نے مسیحی برادری کے سولہ افراد کو اغواء کرکے
قبائلی علاقے باڑہ منتقل کیا تھا۔ پشاور پولیس نے ابتدائی اطلاع کے مطابق مغویوں کی تعداد پچیس بتائی تھی تاہم خیبر ایجنسی کی
مقامی انتظامیہ نے تصدیق کی کہ تمام افراد کی تعداد سولہ تھی۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ پشاور میں طالبان کی مبینہ سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اور شہر کے چاروں طرف میں واقع علاقوں میں طالبان کی موجودگی کی وجہ سے پشاور اس وقت ایک قسم طالبان کے ’محاصرے’ میں ہے۔