Saturday, 21 June, 2008, 23:47 GMT 04:47 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے اکہتر ارب اور انیس کروڑ روپے کا بجٹ پیش کر دیا۔پچھلے چھ سال میں یہ پہلا موقع تھا کہ بجٹ سیشن کے دوران حزب اختلاف کا شور شرابے اور فنانس بل کی کاپیاں پھاڑنے والا اسمبلی میں موجود نہیں تھا۔
یہ شاید پہلی موقع ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں بجٹ حزب اختلاف کے بغیر پییش کیا گیا ہے اس لیے ایوان میں صوبائی وزیر خزانہ عاصم کرد گیلو کی بجٹ تقریر کے دوران مکمل خاموشی تھی۔
سابق پانچ سالہ دور میں حزب اختلاف میں بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں کے علاوہ پیپلز پارٹی کے اراکین جن میں موجودہ وزیر اعلی موجود ہوتے تھے تو بجٹ تقریر کے دوران شدید نعرہ بازی کی جاتی ڈیسک بجائے جاتے اور بجٹ تقریر کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اڑا دی جاتیں اور بقول اس وقت کے اپوزیشن اراکین کے یہ احتجاج مسلم لیگ کی ناقص پالیسیوں کے خلاف کیا جاتا تھا۔
ماضی میں مسلم لیگ قائد اعظم جمعیت علماء اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی مخلوط حکومت نے خسارے کے پانچ بجٹ پیش کیے اوراب پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کی مخلوط حکومت میں بھی تقریباًپانچ ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ اصل خسارہ آٹھ ارب روپے سے زیادہ کا تھا لیکن وفاقی حکومت کی تین ارب روپے کی امداد کے بعد یہ خسارہ کم ہو کر پانچ ارب روپے تک رہ گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے پندرہ ارب چھہتر کروڑ روپے رکھے گئے ہیں لیکن اس بجٹ میں نیا ترقیاتی منصوبہ کوئی نہیں ہے زیادہ تر رقم پہلے سے جاری منصوبوں کے لیے مختص ہے۔
سٹیٹ بینک سے اوور ڈرافٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے بات کی گئی ہے کہ یا تو اسلام آباد یہ رقم ادا کرے اور یا اس قرضے کو آسان قرض یا سافٹ لون میں تبدیل کر دیا جائے۔
آزاد اراکین اسمبلی کے رہنما اور صوبائی وزیر سردار اسلم بزنجو نے کہا ہے کہ معمول کے مطابق وہ بجٹ سے پہلے وفاقی حکومت سے بھیک
مانگنے گئے تھے جس کے بعد بلوچستان حکومت بجٹ پیش کرنے کے قابل ہوئی ہے۔
|
خسارے کا بجٹ
|
بلوچستان کی حکومتیں ایسی ہی ہیں جون کے مہینے میں اسلام آباد جا کر بھیک مانگتے ہیں اور پھر بجٹ تیار ہوتا ہے وگرنہ دیگر تین صوبوں کی طرح بلوچستان کا بجٹ بھی پہلے پیش کر دیا جاتا۔
سردار اسلم بزنجو بلوچستان میں واپڈا کے وزیر ہیں لیکن انھوں نے بجٹ تقریر سے پہلے واپڈا کے خلاف باتیں کیں اور کہا کہ ان کے پاس
کوئی احتیارات نہیں ہیں لوگوں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔