Friday, 20 June, 2008, 09:36 GMT 14:36 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
سوات طالبان نے حکومت کے ساتھ روابطہ منقطع کرنے کے اعلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے جمعہ کو پشاور میں حکومت کے ساتھ پہلے سے طے شدہ
اجلاس میں شرکت نہیں کی جس کے بعد حکومت نے آج ہی طالبان رہنماؤں سے ملاقات کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔
صوبہ سرحد کے وزیر جنگلات اور مذاکراتی کمیٹی کے رکن واجد علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کے روز طالبان اور حکومت کے درمیان اجلاس شیڈول کے مطابق منعقد نہیں ہوسکا ہے کیونکہ طالبان نےہونے والے امن معاہدے پر حکومتی عملدرآمد پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ان کے بقول طالبان کو سوات سے فوج کی واپسی، چیک پوسٹوں کے خاتمے اور بالخصوص اپنے قیدیوں کی عدم رہائی پر تحفظات ہیں تاہم ان کے مطابق ان کو بہت جلد ختم کردیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں واجد علی خان کا کہنا تھا کہ سوات میں امن و امان کی صورتحال کے قیام کے بعد ہی فوج کو بتدریج واپس بلایا جائے گا جبکہ بعض چیک پوسٹوں کو ختم کردیا گیا ہے اور جو موجود ہیں ان پرسکیورٹی فورسز کے اہلکار پہلے کی طرح سختی سے کام نہیں لے رہے ہیں۔
تاہم طالبان قیدیوں کی عدم رہائی کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس میں بعض انتظامی اور عدالتی کاروائی کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے
لیکن انہیں امید ہے کہ اس کا بھی جلد کوئی نہ کوئی حل نکال لیا جائے گا۔
|
|
ان کے مطابق یونیورسٹی کے قیام کا ایکٹ بہت جلد منطور ہوجائے گا اور ممتاز اسلامی اسکالر ڈاکٹر محمد فاروق کو یونیورسٹی کا پروجیکٹ ڈائریکٹر نامزد کردیا گیا ہے۔ ان کے بقول یونیورسٹی میں جدید سائینسی تعلیم کے شعبہ جات کے علاوہ شریعہ فیکلٹی قائم کی جائے گی جس میں اسلامی قانون اور اسلام کے متعلق تحقیق و تدریس ہوگی۔
اس سلسلے میں جب طالبان کےترجمان مسلم خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی تصدیق کی تاہم انکا کہنا تھا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے ان کے ساتھ ملاقات کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے جس پر انہوں نے مثبت جواب دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان اور حکومت کے درمیان جمعہ کو کسی بھی وقت ملاقات متوقع ہے۔