Monday, 16 June, 2008, 06:02 GMT 11:02 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کےصدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی کے لیے جو لانگ مارچ کیا گیا ہے اس کے مقاصد پورے ہوگئے۔
ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے ذریعے ایوان صدر، پارلیمان اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو یہ پیغام مل گیا ہے کہ عوام کیا چاہتے ہیں۔
اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ وکلاء کی تنظیموں، پاکستان بارکونسل، وکلاء کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور لانگ مارچ عمل درآمد کمیٹی نے مشترکہ طور پر لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور دھرنا دینا کا فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کے لیے لانگ مارچ آخری حربہ نہیں تھا بلکہ ان کے پاس دیگر آپشنز موجود ہیں۔ ان کے بقول ان آپشنز میں ٹرین مارچ اور بین الاقوامی کنونشن کا اہتمام شامل ہے۔
ان کے بقول وکلاء کا لانگ مارچ برصغیر میں اپنی نوعیت کا پہلا احتجاج ہے اور اس احتجاج کے ذریعے مقاصد پورے کیے گئے ہیں۔
اعتزاز احسن نے واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر دھرنا بھی دیا جاسکتا ہے تاہم انہوں نے دھرنے کے وقت اور تاریخ کے بارے میں نہیں بتایا۔ان کا کہنا ہے کہ دھرنا دینا بچوں کا کھیل نہیں ہے اس کے لیے وکلاء کی تنظیموں کی باہمی مشاورت اور مکمل تیاری ضروری ہے۔