Sunday, 15 June, 2008, 13:55 GMT 18:55 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان کے شہر پنجگور کے ساتھ ملنے والی پاک ایران سرحد بند کر دی گئی ہے جس سے مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ایران کے شہر ساکران سے تین روز پہلے سولہ ایرانی اہلکاروں کے مبینہ اغوا کے واقعہ کے بعد ایرانی حکام نے کووک کے مقام پر سرحد بند کر دی ہے۔
پنجگور سے تعلق رکھنے والے سابق رکن صوبائی اسمبلی رحمت بلوچ نے کہا ہے کہ سرحد کی بندش سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ بلوچستان کے ان سرحدی علاقوں میں نمک ٹماٹر گھی آٹا تیل اور ہر قسم کی اشیاء ایران سے لائی جاتی ہیں جبکہ پاکستان سے یہ اشیاء مہنگے داموں لائی جاتی ہیں۔
رحمت بلوچ کے مطابق عام دنوں میں دو سو سے تین سو چھوٹی گاڑیاں راہداری یا پرمٹ کے ذریعے ایک سےدوسرے ملک آتی جاتی ہیں جبکہ بڑی گاڑیاں اس سے علیحدہ ہیں۔
سرحد کو سولہ ایرانی اہلکاروں کے مبینہ اغواء کے واقعہ کے بعد بند کیا گیا ہے۔ ان سولہ ایرانی اہلکاروں کو ایران کے سرحدی شہر ساکران میں حق آباد چوکی سے اسلحہ اورگاڑیوں سمت اغوا کیا گیا ہے۔
ایرانی حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ان اہلکاروں کو نامعلوم افراد بلوچستان کی جانب لے گئے ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ تاحال ان مغویوں کو بازیاب نہیں کرایا جاسکا۔
یاد رہے گزشتہ روز اپنے آپ کو کالعدم تنظیم جنداللہ کا ترجمان ظاہر کرنے والے مولوی عبدالرؤف نامی شخص نے کوئٹہ پریس کلب میں ٹیلیفون کر کے اغوا کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔