Friday, 13 June, 2008, 10:08 GMT 15:08 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں لڑکیوں کے سکولوں کو حملوں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ بعض نامعلوم افراد نے لڑکیوں کے ایک اورسکول کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا ہے۔
ضلع دیر میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران لڑکیوں کے سکولوں کو نشانہ بنائے جانے کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بم کا یہ دھماکہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ڈھائی بجے لوئر دیر کے نام سیر کے علاقے میں واقع گرلز مڈل سکول میں ہوا ہے جس سے ایک کمرہ مکمل طور پر تباہ جبکہ عمارت کے باقی حصوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
خال پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار کے مطابق سکول کے چوکیدار کا کہنا ہے کہ وہ سوئے ہوئے تھے کہ نصف شب کو ایک زوردار دھماکے نے انہیں نیند سے جگا دیا۔ان کے مطابق دھماکے کے بعد جمعہ کے روز سکول بند رہا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حملے میں ملوث افراد کا پتہ نہیں چل سکا۔ البتہ چند دن قبل نامعلوم افراد کی جانب سے ایک خط تقسیم کیا گیا تھا جس میں والدین سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنی بچیوں کو سکول نہ بھیجیں کیونکہ خط کے مطابق وہاں پر انہیں انگریزی تعلیم دی جاتی ہے۔
صوبہ سرحد کے دوراُ فتادہ ضلع دیر میں گزشتہ ایک ہفتے کےدوران لڑکیوں کے چار سکولوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس میں دو ہائی اور دو مڈل سکول شامل ہیں۔
حملوں میں ایک ایسے وقت اضافہ ہوا ہے جب دیر سے متصل شورش زدہ سوات میں سرگرم طالبان اور حکومت کے درمیان ایک امن معاہدہ ہوا ہے جس میں طالبان نے حکومت کو یہ ضمانت بھی دی ہے کہ لڑکیوں کے سکولوں کو حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔