Thursday, 12 June, 2008, 08:47 GMT 13:47 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر اور پنجاب کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف کی الیکشن کمیشن کی طرف سے رکن صوبائی اسمبلی کے نوٹیفکیشن کے خلاف حکم امتناعی حاصل کرنے کی درخواست کو نمٹاتے ہوئے اسے لاہور ہائی کورٹ بھجوا دیا ہے۔
یہ درخواست لاہور کے رہائشی خرم شاہ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی تھی جس میں عدالت نے الیکشن کمیشن کو میاں شہباز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روکنے کے بارے میں درخواست مسترد کر دی تھی۔
پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے جسٹس موسی کے لغاری پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کو ہدایت کی کہ
میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں اس درحواست کی سماعت کے لیے تین رکنی بینچ تشکیل دیا جائے اور اس درخواست کو دو دنوں میں
نمٹایا جائے۔ اس درخواست کی سماعت اٹھارہ جون سے ہوگی۔
|
|
اس منقسم فیصلے کے بعد ریٹرنگ افسر کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا تھا جس میں میاں شہباز شریف کے کاغذات درست قرار دیے گئے تھےاور وہ بھکر سے ایک صوبائی حلقے سے بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے تھے۔
عدالت نے درخواست گذار کی طرف سے اس درخواست کو لاہو ر ہائی کورٹ کے علاوہ کسی دوسرے صوبے میں بھیجنے کی درخواست مسترد کر دی۔
درخواست گذار کے وکیل احمد رضا قصوری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص جس کو سنہ دو ہزار دو میں ہونے والے
عام انتخابات میں نااہل قرار دیا گیا ان انتخابات میں اُس کو اہل قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شریف فیملی نے چھ ہزار ایک سو
پنتالیس ملین روپے کے اثاثہ جات بنائے ہیں اور یہ قومی خزانہ لوٹا گیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل احمد رضا قصوری نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات کو صحیح استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف کے خلاف کوئی اُمیداور کھڑا نہیں ہوا اور یہ بھی جمہوری روایات کے خلاف ہے۔
اکرم شیخ پنجاب اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اب یہ درخواست غیر موثر ہوگئی ہے۔ پنجاب حکومت کی نمائندگی کرنے والے خواجہ حارث نے کہا کہ اگر عدالت کی طرف سے کوئی حکم امتناعی جاری کیا گیا تو اسمبلی کی کارروائی متاثر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف کا بطور وزیر اعلی پنجاب نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جا چکا ہے۔