Thursday, 12 June, 2008, 16:08 GMT 21:08 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے گزشتہ روز مہمند ایجنسی میں امریکی حملے میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی ہلاکت کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر قبائلی علاقوں میں امریکی حملے بند نہیں ہوئے تو پاکستان کو دہشت گردی سے متعلق اپنی پالیسوں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ امریکی کاروائیاں بند نہیں ہوئی تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج نکلیں گے۔ ان کے بقول ’نہ صرف اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت ہونی چاہیے بلکہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پھر پاکستان کو دہشت گردی کے بارے میں اپنی پالیسوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے‘۔
اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سربراہ افراسیاب خٹک نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جو ’ کھیل‘ کھیلا جارہا ہے اگر اس کو فوری طور پر بند نہیں کیا گیا تو اس کے اثرات بندوبستی علاقوں تک بھی پھیل سکتے ہیں۔
انہوں نے بھی قبائلی علاقوں کی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر ایک مرتبہ فاٹا کی یہ آگ بندوبستی علاقوں تک جا پہنچی تو پھر اس کے اثر سے ملک کا کوئی حصہ محفوظ نہیں رہے گا۔
افراسیاب خٹک نے کہا کہ فاٹا میں مسلسل انتشار کی وجہ سے پڑوسی ملک افغانستان بھی بری طرح متاثر اور غیر مستحکم ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے اثرات براہ راست طور پر صوبہ سرحد کے اضلاع پر پڑ رہے ہیں لہذا صوبائی حکومت کو بھی فاٹا سے متعلق تمام فیصلوں میں شامل کیا جائے تاکہ اس مسئلے کے حل کےلئے بہتر لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔