Sunday, 08 June, 2008, 13:31 GMT 18:31 PST
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ڈیرہ اسماعیل خان
صوبہ سرحد کے ضلع ٹانک میں مقامی طالبان نے پولیس کی چوکی پر راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے جس میں ایک مورچہ تباہ ہوگیا ہے۔
پولیس نے جوابی کارروائی میں تحریک طالبان ضلع ٹانک کے کمانڈر حیات اللہ کے گھر پر چھاپا مارا ہے جس میں چار مشکوک افراد کو گرفتار کیا ہے۔تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے پولیس چوکی ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس گاڑی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے مختلف علاقوں میں طالبان کے خلاف جاری کاروائی بند نہیں کی تو مزید حملے کرینگے۔
ٹانک میں پولیس کے سربراہ گل سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات شہر سے دس کلومیٹر دور شمال کی جانب شاہ عالم میں کچھ شرپسندوں نے پولیس کی ایک چوکی پر راکٹوں اور خوکارہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجہ میں ایک مورچہ تباہ ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔البتہ اتوار کو فوج اور پولیس کی بھاری نفری نے کارروائی کرتے ہوئے ٹانک
میں تحریک طالبان کے ایک کمانڈر حیات اللہ کے گھر سے چار مشکوک افراد کو گرفتار کیا ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں زاہد،اقبال،خان
بادشاہ اور جانزیب شامل ہیں۔
|
|
انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات بھی جاری ہیں۔لیکن ان کو اپنے ساتھیوں کا بدلہ لینے کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسمعیل خان میں پولیس گاڑی پر حملہ پولیس کی کاروائی کا ردعمل ہے۔
انہوں نے یہ تصدیق کی ہے کہ پولیس کی گاڑی پر حملہ تحریک طالبان کے ساتھیوں نے کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان معاہدے کا پابند ہے لیکن حکومت کے اہلکاروں نے مختلف علاقوں میں معاہدے کی خلاف ورزی شروع کی ہے۔انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے طالبان کے خلاف کاروائی بند نہیں کی تو وہ مزید حملےکرنے پر مجبورہوجائنگے۔
یاد رہے کہ صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے پولیس چوکیوں اور سی ڈیز کی مارکیٹوں پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا
ہے۔دو دن پہلے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کی گاڑی پر حملہ ہوا تھا جس کے نتیجہ میں تین پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے
تھے۔اس کے علاوہ ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان،لکی مروت،بنوں اور ہنگو میں درجنوں سی ڈیز کی دوکانوں کوبم دھماکوں سے تباہ کیا ہے۔