Monday, 09 June, 2008, 00:42 GMT 05:42 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرکاری ملازمین کو منتخب کرنے والے ریاست کے ادارے پبلک سروس کمیشن میں نئے اراکین کی تقرریوں پر تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ حزب مخالف کی جماعتوں نے ان تقرریوں پر سوال اٹھایا ہے لیکن حکومت نے اس اعتراض کو مسترد کیا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے پبلک سروس کمیشن میں تعینات کئے جانے والے چار نئے اراکین پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی اہلیت پر اعتراض کیا ہے۔
پی پی پی کے رہنماء اور قانون ساز اسمبلی کے رکن میاں وحید نے کہا ہے کہ پبلک سروس کمیشن کے نئے اراکین مطلوبہ اہلیت اور تعلیمی قابلیت نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ ’ان میں بعض ماضی میں خود پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں فیل ہوچکے جبکہ بعض حکمران جماعت مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ کے رکن ہیں‘۔
میاں وحید کا کہنا ہے کہ ’ان افراد کی تعیناتی اہلیت، تعلیمی قابلیت یا تجربے کی بنیاد پر نہیں بلکہ وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان سے قربت کی بناء پر کی گئی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’نئے اراکین اہل ہیں نہ ہی غیر جانبدار لہذا ان سے یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی ہے کہ یہ سرکاری ملازمتوں کے لیے اہل لوگوں کا انتخاب کریں گے‘۔
کشمیر کے اس علاقے کی سردار عیتق کی حکومت نے اس سال اپریل میں پبلک سروس کمیشن میں تین نئے اراکین تین سال کی مدت کے لیے تعینات کیے جبکہ ایک کا تقرر گزشتہ سال اگست میں عمل میں لایا گیا تھا۔
پیپلز پارٹی کو جہاں نئی تقرریوں پر اعتراض ہے وہیں اس نے پبلک سروس کمیشن کے چیرمین برگیڈئیر رٹیائرڈ محمد سیعد اختر اور ایک رکن راجہ الطاف کیانی کی مدت ملازمت میں دوسری مرتبہ توسیع پر بھی تنقید کی ہے۔
ان کی مدت ملازمت اس سال اپریل میں مزید دو سال کے لیے بڑھا دی گئی تھی۔ لیکن حکومت نے حزب مخالف کی جماعت کے اس مؤقف کو بھی رد کردیا ہے۔
حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی نے اس معاملے کو قانون ساز اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں بھی اٹھایا تھا اور اب پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ پبلک سروس کمیشن میں نئی تقرریوں اور چیئرمین اور ایک رکن کی ملازمت میں دوسری مرتبہ توسیع کے معاملے کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔