http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 06 June, 2008, 14:34 GMT 19:34 PST

نثار کھوکھر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سکھر

وکلاء لانگ مارچ، آغاز اب سکھر سے

سپریم کورٹ بار کے نائب صدر اور لانگ مارچ کمیٹی کے سربراہ امداد اعوان نے کہا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی کے لیے دس جون کو ملتان سے شروع ہونے والا وکیلوں کا لانگ مارچ اب سکھر سے شروع کیا جائےگا۔

سکھر بار روم میں جمعہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امداد اعوان نے کہا کہ لانگ مارچ کے لیے شہر کی تبدیلی کا فیصلہ یکم جون کو پشاور میں کیا گیا تھا اور اس فیصلے میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے بھی مشاورت کی گئی تھی ۔

امداد اعوان کےمطابق کوئٹہ سے علی احمد کرد اور کراچی سے ابرار حسن کی قیادت میں وکلاء کے وفود نو جون کی شام سکھر پہنچ جائیں گے اور وہ سکھر کے وکیلوں کے ہمراہ دس جون کو لانگ مارچ شروع کریں گے جس کی اگلی منزل ملتان ہوگی۔

امداد اعوان نے دعوٰی کیا کہ سکھر میں ہوٹل مالکان نے دیگر شہروں سے آنے والے وکلاء رہنماؤں کو رہائشی کمرے فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی دباؤ کے تحت ہوٹل مالکان انہیں کمرے فراہم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

وکلاء رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انہیں حکومت سندھ سے کسی سختی کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ ان کا لانگ مارچ پرامن ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے وزیراعلی سید قائم علی شاہ سکھر بار کے رکن ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ اپنی رکنیت کا بھرم ضرور رکھیں گے۔

امداد اعوان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے لانگ مارچ کے شرکاء کو شربت اور بریانی فراہم کرنے کی بات کی تھی اور انہیں امید ہے کہ آصف زرداری کےشربت میں کوئی کڑواہٹ نہیں مٹھاس ہوگی۔