http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 03 June, 2008, 15:58 GMT 20:58 PST

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

کرم ایجنسی دھماکے میں چار ہلاک

فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک گاڑی کے سڑک کے کنارے نصب بم سے ٹکرانے کے نتیجے میں دو بچیوں سمیت چار افراد ہلاک اور پانچ شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

جائے وقوعہ پر موجود کرم ایجنسی کے ایک پولیٹیکل اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی شام تقریباً پانج بجے سواریوں سے بھری ایک گاڑی بگن کے علاقے سے مندرہ جاتے ہوئے شرقی اوبہ کے مقام پر سڑک کے کنارے نصب ایک بم کے ساتھ ٹکرائی۔

ان کے بقول دھماکے کے نتیجے میں دو بچیوں سمیت چار افراد ہلاک جبکہ پانچ شدید زخمی ہوگئے ہیں جنہیں طبی سہولت فراہم کرنے کے لیے ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعہ میں مبینہ طور پر ملوث ملزمان کے بارے میں ابھی تک کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔

کرم ایجنسی گزشتہ کئی سالوں سے فرقہ ورانہ فسادات کی زد میں ہے اور کئی بار فریقین کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہوگئے ہیں جبکہ اس سلسلے میں حکومت اور قبائلی مشران کی جانب سے کرائے گئے متعدد امن معاہدے دیرپا ثابت نہیں ہوسکے ہیں۔

تین ہفتے قبل پشاور میں حکومت نے اہلِ تشیع اور اہل سنت کے تقریباً پچاس افراد کو اس الزام کے تحت گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا کہ وہ امن مذاکرات کو آگے لیجانے میں حکومتی جرگے کی معاونت نہیں کررہے ہیں۔

اگرچہ کرم ایجنسی میں فریقین کے درمیان باقاعدہ جھڑپیں اب رُک گئی ہیں تاہم گزشتہ کچھ عرصے سےایک دوسرے کے افراد کو اغواء کرکے قتل کرنا یا انہیں بم حملوں کا نشانہ بنانے کے واقعات میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔