http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 30 May, 2008, 13:37 GMT 18:37 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’باضابطہ درخواست بھجوا دی گئی‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بتایا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرانے کے لیے حکومت نے باضابطہ درخواست اقوام متحدہ کو بھجوادی ہے۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کی شام سوشلسٹ انٹرنیشل ایشیا پیسیفک کمیٹی کے اجلاس کے بعد نیوز بریفنگ کے دوران بتائی۔

دنیا کی ایک سو ساٹھ سیاسی جماعتیں سوشلسٹ کمیٹی کی ممبر ہیں جن میں سے ساٹھ جماعتوں کی مختلف ممالک میں اس وقت حکومتیں قائم ہیں۔

بریفنگ میں جب آصف علی زرداری سے پوچھا گیا کہ صدر پرویز مشرف کو کب چکلالہ ائر بیس پر الوداع کرنا ہے تو انہوں نے کہا: ’جب آپ چاہیں گے، جب آپ کی پارلیمان چاہے گی اور جب پاکستان کے لوگ چاہیں گے۔‘

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صدر پرویز مشرف کو جلد ہٹانے کے بارے میں آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ جمہوریت کے سفر میں ان کے ساتھ شریک ہیں اور اب تک انہیں لیڈ کرتے ہوئے اگر یہاں تک لے آئیں ہیں تو آگے بھی لے جائیں گے۔ ’لیکن اس کے لیے تھوڑا تحمل چاہیے اور یہ معاملہ میں ڈائلاگ سے طے کرنا چاہتے ہیں۔‘

آصف علی زرداری نے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے ستر لاکھ گھرانوں کو بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب ایک کارڈ جاری ہوگا۔ ان کے مطابق کریڈٹ کارڈ کے طرز پر اس کارڈ میں ہر ماہ پندرہ سو سے دو ہزار روپے تک رقم اپ لوڈ ہوجائے گی اور وہ کھانے پینے کی اشیاء مفت حاصل کرسکیں گے۔

سوشلسٹ کمیٹی نے جہاں حقائق جاننے کے لیے بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرانے کی حمایت کی وہاں مطالبہ کیا کہ برما کی نظر بند رہنما آنگ سانگ سوچی کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ کمیٹی نے نیپال میں جمہوریت کے قیام اور بادشاہت کے خاتمے کا خیرمقدم کیا۔

کمیٹی کے سیکریٹری لوئس ایالہ نے بتایا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ آصف علی زرداری کی سربراہی میں کمیٹی کا ایک وفد برما جائے گا اور برما کے آمر حکمرانوں کو آنگ سانگ سوچی کی رہائی کے لیے مطالبہ پیش کرے گا۔