Wednesday, 28 May, 2008, 13:05 GMT 18:05 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردوڈاٹ کام اسلام آباد
اب سے دس برس پہلے گیارہ اور تیرہ مئی کو بھارت کے علاقے پوکھران میں واجپئی حکومت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان کی نواز شریف حکومت نے پندرہ روز بعد بلوچستان کے علاقے چاغی میں اٹھائیس اور تیس مئی کو چھ دھماکے کئے۔نواز شریف حکومت نے اٹھائیس مئی کو یومِ تکبیر قرار دیا۔اور پورے ملک میں کئی مقامات پر چاغی پہاڑ کے ماڈل نصب کئے گئے۔لیکن یہ حکومت صرف ایک ہی یومِ تکبیر منا سکی اور برطرف کردی گئی۔
جب دس برس قبل دونوں ممالک نے دھماکے کئے تھے تو اسوقت دونوں جگہ دھماکہ نواز لابی کے پاس انکے حق میں متعدد دلائل تھے۔
جبکہ پاکستان میں بھی دھماکہ لابی کا یہی موقف تھا کہ ایک تو عالمِ اسلام کا سر فخر سے بلند ہوگا کہ ایک مسلمان ملک بھی ایٹمی کلب میں شامل ہوسکتا ہے۔ساتھ ہی اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوجائے گا کہ پاکستان کی جانب بھارت سمیت کوئی بھی طاقت میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔اب بھارت مجبور ہوگا کہ وہ پاکستان سے برابری کی بنیاد پر کشمیر سمیت تمام معاملات طے کرے۔جبکہ پاکستان کے پاس بیس تیس جوھری ہتھیار اور انکا ڈلیوری سٹم موجود ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ روایتی ہتھیاروں پر انحصار کم سے کم ہوسکے گا اور یوں پاکستان اپنے دفاعی بجٹ میں تخفیف کرکے یہ رقم مفادِ عامہ کے شعبوں ، انفراسٹرکچر اور انسانی ترقی پر خرچ کر سکے گا۔
دونوں ممالک میں جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ جس تنظیم یا فرد نے بھی دھماکہ لابی کے نظریے سے اختلاف کرنے یا تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنے کی کوشش کی اسے ملک دشمن، غدار اور ’دیش دروہی‘ کے القابات سے نوازا گیا۔
آج دس برس بعد اگر مڑ کر جائزہ لیا جائے کہ کیا کھویا کیا پایا تو پتہ یہ چلے گا کہ دونوں ممالک کی اس وقت کی حکومتوں نے ایٹمی قوت بننے کے جو جو فوائد گنوائے تھے ان میں سے شائد ہی کوئی فائدہ شرمندہِ تعبیر ہوا ہو۔
دسمبر دو ہزار ایک میں دلی میں لوک سبھا کے احاطے میں دھشت گردی کے ایک واقعہ کے بعد بھارت نے پاکستان کی سرحد پر اپنی فوجیں جمع کردیں اور دونوں ممالک کی فوجیں سال بھر ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی رھیں۔
دونوں ممالک کو یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ ایٹمی ھتھیار رکھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ روایتی ہتھیاروں کا خرچہ کم ہوسکے۔چنانچہ گذشتہ دس برس میں بھارت اور پاکستان کے دفاعی بجٹ میں پہلے کی طرح مسلسل اضافہ ہی ہورھا ہے۔
پاکستان آج بھی پہلے کی طرح اپنی کل قومی پیداوار کا لگ بھگ چار فیصد اور بھارت لگ بھگ تین سوا تین فیصد خرچ کررھا ہے۔ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے قبل بھی بھارتی فوج دنیا کی چوتھی اور پاکستانی فوج ساتویں بڑی آرمی تھی آج بھی اس ترتیب میں کوئی فرق نہیں آیا۔دس برس پہلے بھی دنیا کا ہر چھٹا غریب جنوبی ایشیائی تھا آج بھی یہی تناسب ہے۔
دفاعی اخراجات میں تو خیر کیا کمی ہوتی۔ایٹمی ھتھیاروں کے ڈلیوری سسٹم جس میں امریکی ایف سولہ اور روس کے مگ تیس اور پینتیس ساخت کے طیارے اور پاکستان کے حتف سیریز کے دورمار میزائیل اور بھارت کے پرتھوی اور اگنی سیریز کے میزائیل شامل ہیں انکی تیاری اور تجربات کے نام پر دونوں حکومتیں اربوں ڈالر مزید مختص کرنے پر مجبور ہیں۔
پاکستان کو اندرونی سلامتی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔بھارت اور پاکستان دونوں کو زرعی اجناس کی قلت اور پٹرول کی قیمتوں کے بے قابو عفریت کا سامنا ہے۔دونوں ممالک میں امیر اور غریب کا فرق دس برس پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
کیا چین اور بھارت میں مستقبلِ قریب میں تصادم ہوگا؟ یہ سوال جس کے بھی سامنے رکھا جائے وہ نفی میں سر ھلا دے گا۔کیا بھارت پاکستان کا پہلے کی طرح نمبر ایک دشمن ہے؟ آج کے پاکستان میں شائد ہی کوئی ہو جو اس کا جواب ھاں میں دے۔
ان حالات میں دونوں ممالک ایٹمی ھتھیار حتف یا غوری یا پرتھوی پر نصب کرکے آخر کس کے خلاف استعمال کریں گے۔امریکہ کے خلاف ؟ طالبان کے خلاف؟ کشمیری شدت پسندوں کے خلاف؟ آٹے اور چینی کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف ؟ کس کے خلاف ؟
کیا دونوں ممالک کو یہ احساس ہے کہ اب عالمی اور علاقائی خطروں کی نوعیت بدل چکی ہے اور اب خطرہ ایک دوسرے سے نہیں بلکہ دھشت گردی، ماحولیات ، اقتصادی ابتری، پسماندگی اور زراعت کی زبوں حالی سے ہے ۔
خوراک کی قلت کا اژدھا آہستہ آہستہ یہ جانے بغیر آگے بڑھ رھا ہے کہ کون سا ملک ایٹمی ہے اور کونسا غیر ایٹمی۔ایسے خطرات کے تدارک کے لئے نئی طرز کی سوچ اور ھتھیار درکار ہیں۔اور یہ ہتھیار تب ہی بن سکتے ہیں جب ایٹمی اور روایتی ھتھیاروں پر صرف ہونے والا پیسہ اور وسائل بچائے جا سکیں۔
بدلے ہوئے دور میں ایٹمی ہھتیار نہیں ایٹمی بجلی گھر درکار ہیں تاکہ ٹیوب ویل اور کارخانے کا پہیہ چل سکے۔ورنہ تو سوویت یونین کے پاس چھ ہزار سے زائد ایٹمی ھتھیار تھے۔آپ جانتے ہیں نا کہ پھر کیا ہوا؟ آج یومِ تکبیر کے بجائے یومِ تدبیر منانے کی ضرورت ہے۔