Wednesday, 28 May, 2008, 14:45 GMT 19:45 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
صدر مملکت ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف سے آرمی ہاؤس خالی کرانے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک رٹ دائر کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں دائر کی جانے والی رٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر پرویز مشرف کا آرمی ہاؤس میں قیام غیر آئینی اور غیر قانونی ہے اس لیے عدالت انہیں آرمی ہاؤس خالی کرنے کا حکم دیا جائے۔
ان کے اس فیصلے کے خلاف دائر ہونے والی اس تازہ رٹ میں کہا گیا ہے کہ آرمی ہاؤس میں رہنے کا استحقاق اب صرف چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز کیانی کو ہے اس لیے سپریم کورٹ اس معاملے کا فوری نوٹس لے۔
آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی اے کے تحت یہ رٹ، عدلیہ بچاؤ کمیٹی کےسیکرٹری جنرل میاں جمیل اختر نے بدھ کو اپنے وکیل بیرسٹر ڈاکٹر فاروق حسن کے توسط سے دائر کی ہے۔
پاکستان کے سابق فوجی افسروں کی ایک تنظیم بھی آرمی ہاؤس خالی کرانے کا مطالبہ کرچکی ہے ان کہنا ہے کہ آرمی ہاؤس میں صدرپرویز مشرف کی موجودگی سے عوام کو یہ غلط پیغام مل رہا ہے کہ فوج صدر پرویز مشرف کے مبینہ غیر آئینی اقدامات کی حامی ہے۔ پاکستانی فوج میں اعلیٰ عہدوں پرفائز رہنے میں ریٹائرڈ افسروں کی تنظیم کا اجلاس گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہوا تھا۔
آئی ایس آئی کے سابق سربراہوں جنرل (ر) اسد درانی اور جنرل (ر) حمید گل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر مشرف اپنی رہائش گاہ میں سیاست دانوں سے ملتے ہیں اور سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہیں جس سے آرمی ہاؤس کی غیر سیاسی حثیت بھی مجروح ہو رہی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر لاہور رجسٹری میں بدھ کی رٹ درخواست پر کوئی اعتراض نہ لگا تو یہ اسلام آباد بھجوائی جائے گی اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ یہ درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں۔