http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 28 May, 2008, 04:20 GMT 09:20 PST

فراز ہاشمی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

ایک سال میں 135 کو پھانسی

پاکستان میں سن دوہزار سات میں تین سو دس افراد کو سزائے موت سنائی گئی اور ایک سو پینتیس کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا جن میں ایک ایسا نوجوان بھی شامل تھا جس نے کم عمری میں قتل کیا تھا۔

سن دو ہزار سات میں انسانی حقوق کی صورت حال

یہ اعداد و شمار ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کے جائزے میں پیش کیے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ نومبر دو ہزار سات میں محمد منشا نامی ایک نوجوان کو پھانسی دی گئی جسے مارچ دو ہزار ایک میں قتل کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس واردات کے وقت وہ صرف پندرہ سال کا تھا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے کہا کہ حکومت گھروں میں تشدد کے واقعات (جن میں زنا اور غیرت کے نام پر قتل جیسے جرائم شامل ہیں) کو روکنے اور ان جرائم میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ناکام رہی۔

پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی تنظیم عورت فاونڈیش کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن دو ہزار سات کے پہلے دس ماہ میں صرف صوبہ سندھ میں غیرت کے نام پر ایک سو تراسی خواتین اور ایک سو چار مردوں کا قتل ہوا۔

رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار سات میں قبائلی علاقوں میں مسلح گروپوں کی طرف سے لوگوں کو یرغمال بنانے اور انہیں قتل کرنے کے واقعات بھی پیش آئے۔

اسلام آباد میں لال مسجد پر فوجی کارروائی کے بعد حکومتی اور فوجی تنصیبات پر خود کش حملوں میں اضافہ ہوا جس میں کم از کم چار سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔

صرف جولائی کے مہینے میں تیرہ خود کش حملے ہوئے اور ان میں ایک سو چورانوے افراد ہلاک ہوئے۔

اسلامی تنظیوں کے اراکین نے درجنوں افراد کو حکومت کی جاسوسی کرنے یا اسلامی اقدار کی خلاف ورزی کرنے پر قتل کیا۔ اگست کے مہینے میں طالبان کے حامی ایک گروہ نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں ایک نوعمر لڑکے کو ایک یرغمالی کا سر کاٹتے ہوئے دکھایا گیا۔
لاپتہ افراد کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں

قبائلی علاقوں میں عورتوں اور بچیوں کے خلاف کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا۔ ستمبر کے مہینے میں بنوں میں دو خواتین کی لاشیں ملیں جن کے ساتھ ایک پرچے پر لکھا ہوا تھا کہ یہ بدکاری میں ملوث تھیں۔

اس رپورٹ میں مارچ سن دو ہزار سات میں جنرل مشرف کی طرف سے چیف جسٹس آف پاکستان کو معذول کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والے بحران کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا۔ اس بحران کے دوران سیاسی کارکنوں، وکلاء، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور انسانی حقوق کی تنظیم کے اراکین پر پولیس تشدد کا بھی ذکر کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لاپتہ ہوجانے والے چار سو افراد کی بازیابی کے لیے دائر کی جانے والی درخواستوں کی سماعت شروع کی۔ ان چار سو افراد میں سے سو کے بارے میں پتا چلا لیا گیا۔ ان میں سے اکثر کو جھوٹے مقدمات میں قید رکھا گیا تھا۔

پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے پانچ اکتوبر کو کہا کہ اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ لاپتہ ہونے والے لوگ حکومت کے خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں اور جو ان کو غیر قانونی طور پر قید میں رکھنے کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔

انہوں نے ایسے تمام لوگوں کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا اور عدالت کی یہ کارروائی دو نومبر تک جاری رہی۔ لیکن تین نومبر کو جنرل مشرف نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو معزول کر دیا۔

ان سینکڑوں لاپتہ افراد کے بارے میں ابھی تک کچھ پتا نہیں ہے اور خدشہ ہے کہ ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
جولائی 2007 میں تیرہ خود کش حملے ہوئے جن میں 113 افراد ہلاک ہوئے

اس ضمن میں سعود میمن کی مثال بھی دی گئی۔ سعود میمن جن کے احاطے میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کا قتل ہوا تھا اٹھائیس اپریل دو ہزار سات کو اپنے گھر کے پاس پائے گئے۔ وہ اپنی یاداشت کھو چکےتھے، بات کرنے کے قابل نہیں تھے اور ان کا وزن صرف چھتیس کلو گرام ہو چکا تھا۔ ان کا اٹھارہ مئی کو ایک ہسپتال میں انتقال ہو گیا۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے مارچ دو ہزار تین میں جنوبی افریقہ سے گرفتار کیا تھا۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ اتنا عرصہ کہاں اور کس کی حراست میں رہے۔