Friday, 23 May, 2008, 07:47 GMT 12:47 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کو ضمنی انتخابات کے لیے اہل قرار دیئے جانے کے ریٹرنگ افسروں کے فیصلوں کو الیکشن ٹریبونل میں چیلنج کیا گيا ہے۔
الیکشن ٹریبونل لاہورہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل ہے۔ نواز شریف لاہوراور راولپنڈی سے الیکشن لڑنا چاہتےہیں۔ لاہور کے این اے ایک سو تئیس سے مسلم لیگ قاف کے امیدوار اور آزاد امیدوار نورالہی نے جبکہ راولپنڈی کےحلقہ باون سے ناصر راجہ نے الگ الگ درخواستیں دائر کی ہیں۔
مخالف امیدواورں نے اپنی الگ الگ درخواستوں میں کہا ہے کہ نواز شریف طیارہ سازش کیس میں سزا یافتہ اور بینک نادہندہ ہیں اس لیےانہیں نااہل قراردیا جائے۔
شہباز شریف لاہور راولپنڈی ،سیالکوٹ اور بھکر سے پنجاب اسمبلی کی پانچ نشستوں سے امیدوار ہیں۔ البتہ فی الحال صرف راولپنڈی کی سیٹ سے ان کے کاغذات منظور کیے جانے کے خلاف اپیل دائر کی گئی ہے۔ ان کے مخالف امیدوار نے نادہندگی کے علاوہ ان پر سپریم کورٹ پر حملہ کیس میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
شریف برادران پر انہیں امیدوراوں نے اس سے پہلے بھی ریٹرینگ افسر کے روبرو یہی اعتراضات اٹھائے تھے جو مسترد کردیے ئے تھے۔امیدواروں نے اب ان فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔
ان کی تازہ درخواستوں پر انتخابی ٹریبونل نے الیکشن کمشنر اور نواز شریف کو چھبیس مئی تک جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔
واضح رہے کہ اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے لیے جب نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تھا تو انہوں نے اس بنیاد پر الیکشن ٹریبونل میں اپیل کرنے سے انکار کیا تھا کہ وہ پی سی او کے تحت حلف یافتہ ججوں کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہتےتھے۔
مسلم لیگ لائرز ونگ کے سربراہ نصیر احمد بھٹہ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ نوازشریف سنیچر کو اپنے وکلاء کےگروپ سے صلاح و مشورے کے بعد عدالتی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔
نصیر بھٹہ کا کہنا ہے کہ شریف برداران اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ وہ خود سے الیکشن ٹریبونل نہیں جائیں گے البتہ اب معاملہ مختلف ہے اور ان پر الزامات لگائے گئے ہیں اور جوابا وہ اپنے دفاع کرنے کا حق رکھتےہیں۔