Wednesday, 21 May, 2008, 12:25 GMT 17:25 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تین لاپتہ افراد کے عزیزوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی وہ ان کی عزیزوں کی رہائی کے لیے بھارت کے وزیر خارجہ سے بات کریں۔
لاپتہ افراد کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ انہیں گذشتہ سال ستمبر میں مبینہ طور پر بھارتی فوج وادی نیلم میں لائن آف کنڑول کے قریب سے پکڑ کر لے گئی تھی۔
لاپتہ افراد کے عزیز ولی محمد خان نے وادی نیلم کے قصبے اٹھمقام سے بی بی سی اردو آن لائن کو ٹیلیفون پر بتایا کہ ’حکومت پاکستان ہمارے عزیزوں کا معاملہ ہندوستان کے وزیر خارجہ کے ساتھ اٹھائے اور ہمارے عزیزوں کی جلد رہائی اور ان کی گھروں کو واپسی یقینی بنائے‘۔
لاپتہ ہونے والے ان تینوں افراد کا تعلق وادی نیلم کے گاؤں ڈھکی چکناڑ سے ہے۔ یہ گاؤں مظفرآباد سے تقریباً دو سو کلو میٹر دور لائن آف کنڑول پر واقع ہے۔
اس گاؤں کو جانے والے راستے میں ایک ایسا ٹکڑا ہے جو بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہوکر گزرتا ہے اور اس کے سوا اس گاؤں تک پہنچے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
لاپتہ ہونے والے افراد کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ ان کے عزیزوں کو ممکنہ طور پر اسی مقام سے گزرتے ہوئے بھارتی سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے لیا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق اس سال جنوری میں کہا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ ان تینوں افراد کو لائن آف کنڑول کے
دوسری جانب لے جایا گیا ہے اور یہ کہ انہوں نے اس معاملے کو بھارتی حکام سے اٹھایا ہے۔
|
دو سو خاندانوں کی نقل مکانی
|
اس واقعہ کے کچھ ہی عرصہ بعد لاپتہ ہونے والے افراد کے خاندان والوں سمیت اس گاؤں کے لگ بھگ دو سو خاندانوں نقل مکانی کر کے وادی نیلم کے ضلعی ہیڈ کواٹر اٹھمقام میں حکومت کی طرف سے بنائی گئی ایک خیمہ بستی میں آباد ہیں۔
ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اسی صورت میں اپنے گھروں کو واپس جائیں گے اگر انہیں اپنے گاؤں میں تحفظ دیا جائے گا اور گاؤں جانے کے لیے محفوظ اور متبادل راستہ فراہم کیا جائے گا۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام تسلیم کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو اپنے گاؤں میں مشکلات ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں کسی دوسری جگہ پر پر آباد کیا جائے گا۔