Sunday, 18 May, 2008, 23:29 GMT 04:29 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبۂ سرحد کے ضلع مردان میں ہونے والا مبینہ خودکش حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب مرکزی اور صوبائی حکومتیں قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان اور ضلع سوات میں تحریک طالبان کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں اور اس سلسلے میں دونوں طرف سے قیدیوں کے تبادلے اور محسود علاقے سے فوج کی واپسی کی صورت میں پیش رفت ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔
اگرچہ فی الوقت حکومت نے اپنی تمام تر توجہ سوات اور جنوبی وزیرستان میں مبینہ عسکریت پسندوں پر مذاکرات کی شکل میں قابو پانے کی طرف مرکوز کی ہے مگر اس دوران درۂ آدم خیل ایک تیسرے محاذ کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
گزشتہ کچھ دنوں سے درۂ آدم خیل، ضلع کوہاٹ اور خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر بم اور مارٹر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور درہ کے طالبان نے ان تمام واقعات کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
درۂ آدم خیل کے طالبان کی طرف سے کیے جانے والے حملوں کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ حکومت پر دباؤ میں اضافہ کر کے اسے اس بات پر مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ بھی جنوبی وزیرستان اور سوات کے طالبان قیادت کی طرز پر بات چیت کریں اور انہیں بھی رعائتیں دیں۔
صوبہ سرحد کے دارالحکومت سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور واقع درۂ آدم خیل کی جغرافیائی حکمت عملی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ صوبے کو جنوبی اضلاع سے ملانے والی واحد سرنگ یہاں پر ہی واقع ہے۔ عام ٹرانسپورٹ کے علاوہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کو قبائلی علاقوں اور جنوبی اضلاع کی طرف جانے کے لیے یہاں سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ جنوری میں وزیرستان کی طرف جانے والے فوجی اسلحے سے بھرے چھ ٹرکوں کا طالبان کے ہاتھوں اغواء اس کی ایک مثال ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ درۂ آدم خیل صوبہ سرحد میں قائم فوج کے چار اہم فوجی چھاؤنیوں کوہاٹ، نوشہرہ، پشاور اور مردان کے بہت قریب ہے اور ان علاقوں میں بھی مقامی سطح پر طالبان کا نیٹ ورک موجود ہے۔
مردان میں مبینہ طور پر سرگرم طالبان کے ترجمان مولوی عبداللہ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ مردان کے مقامی طالبان تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کی سربراہی میں گزشتہ ایک سال سے خفیہ طور پر سرگرم عمل ہیں اور مردان کے سیف اللہ نامی شخص درۂ آدم خیل کے کمانڈر عبدالجبار کی ہدایات پر ان کے تنظیمی امور چلا رہے ہیں۔
اگر اس پس منظر میں حالات کا جائزہ لیا جائے تو مستقبل میں سوات اور وزیرستان میں حکومت کے ساتھ ممکنہ امن معاہدوں کے ہو جانے کے بعد جنگ کے عادی طالبان جنگجو درۂ آدم خیل کے محاذ کی طرف رخ کر سکتے ہیں۔