Saturday, 17 May, 2008, 12:08 GMT 17:08 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان میں وکلاء کے منتخب نمائندوں کی کانفرنس میں ججوں کی بحالی کے لیے دس جون کو لانگ مارچ کا اعلان کردیا گیا ہے۔
اس بات کا اعلان پاکستان بارکونسل کےوائس چئرمین سید رحمان نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں ہونے والی آل پاکستان وکلاء نمائندہ کانفرنس کے اختتام پر پریس کانفرنس میں کیا۔
سید رحمان نے کہا کہ دس جون سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کو ’عدلیہ بحالی لانگ مارچ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لانگ مارچ کے طریقۂ کار، مقام، سمت اور راستوں کا تعین کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔
سید رحمان نے اعلان کیاکہ لانگ مارچ سے پہلے چوبیس مئی کو فیصل آباد، اکتیس مئی کو ملتان اور نو جون کو لاہور میں وکلاء کے مزید کنونشن ہوں گے جن میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری مہمان خصوصی ہونگے جبکہ دیگر معزول ججوں کو ان قومی کنونشن میں بھی مدعو کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بارکونسل کے فیصلے کی روشنی میں وکلاء کا احتجاج بدستور جاری رہے گا جس کے تحت ہر جمعرات کو ملک بھر کے
وکلاء مکمل دن کی ہڑتال کریں گے جبکہ دیگر دنوں میں روزانہ ایک گھنٹے کی علامتی ہڑتال کی جائے گی۔
|
جج بحال ہوئے تو جشن و چراغاں
|
کانفرنس میں ایک قرار داد میں کہا گیا کہ اعلان مری میں تیس دنوں میں ججوں کی بحالی کا جو وعدہ کیا گیا اس کو پورا نہیں کیا گیا ہے جس سے وکلاء بڑی مایوسی ہوئی ہے۔
کانفرنس میں قرارداد کے ذریعے کہا گیا کہ عوام نے وکلاء تحریک کی حمایت کی اور اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات میں ان مشرف
مخالف جماعتوں کو ووٹ دے کر کام دیا جنہوں نے عدلیہ کی بحالی اور آزادی کے لیے آواز بلند کی۔
کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے ’گو مشرف گو‘، ’مشرف جو یار ہے، غدردار ہے‘، ’آئے گا دوبارہ، چیف جسٹس‘ اور ’چیف تیرے جان، نثار
بے شمار‘ کے نعرے لگائے۔