Saturday, 17 May, 2008, 13:48 GMT 18:48 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
حکمران اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ معزول ججز کی بحالی کے لیے قرارداد تیار کرلی گئی ہے جس میں ’مائنس ون‘ کا فارمولہ شامل نہیں ہے۔
یہ بات انہوں نے سنیچر کو پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس کے اختتام پر باچا خان مرکز میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی۔ اسفند یار ولی خان نے کہا کہ معزول ججوں کو بجٹ کے اجلاس سے قبل اپنے عہدوں پر بحال کر دیا جائیگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ججوں کی بحالی کے لیے قرار داد تیار کر لی گئی ہے اور انہوں نے جو مسودہ دیکھا ہے اس میں ’مائنس ون‘ کا فارمولہ شامل نہیں ہے بلکہ چودھری افتخار سمیت تمام معزول ججوں کو بحال کیاجائے گا۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ عدلیہ کی مکمل آزادی چاہتے ہیں اور ان قوتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جو عدلیہ کو اپنی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اے این پی کے رہنماء کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ حکمران اتحاد کا حصہ بنانے کے لیے آخری قت تک بھرپور کوشش کی جائے گی۔
حکومت اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ صرف ان لوگوں سے بات چیت کی جائے گی جو اسلحہ رکھ کر پر امن زندگی گزارنے پر تیار ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز باجوڑ میں ایک گھر پر ہونے والے میزائل حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مذاکرات کے ذریعے اس مسئلہ کا حل نکالنے کا موقع دیا جائے۔
صوبے کے نام کی تبدیلی کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی انکا آئینی حق ہے اور اگر ’پشتونخوا‘ کے نام
پر اتفاق نہیں ہوتا تو وہ پشتونستان یا افغانیہ کے نام پر رضامند ہوسکتے ہیں۔
|
پشتونخوا نہیں تو پشتونستان
|