Friday, 16 May, 2008, 06:57 GMT 11:57 PST
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ڈیرہ اسماعیل خان
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل رزمک میں حکومت اور محسود قبائل کے جرگے نے مزید انتیس قیدیوں کو ایک دوسرے کے حوالے کردیا ہے۔ تاہم رہا ہونے والوں میں اس دفعہ بھی افغانستان میں پاکستان کے مغوی سفیر طارق عزیز الدین شامل نہیں ہیں۔
رہا ہونے والوں میں جنوبی وزیرستان سکاؤٹس فورس کے چھ اہلکار اور بیت اللہ گروپ کے تئیس مقامی طالبان شامل ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے حکام نے قیدیوں کے تبادلے کی تصدیق کردی ہے۔
حکام نے کہا کہ محسود قبائل کے جرگے کے ساتھ بات چیت میں حکومت کی جانب سے مقامی انتظامیہ اور فوجی اہلکار شامل تھے۔
مقامی لوگوں کے مطابق طالبان کے رہا ہونے والے تئیس طالبان میں سے چھ میرانشاہ ارو تین ڈیرہ اسماعیل خان سنٹر جیل سے لائے گئے تھے۔ان کے مطابق رہا ہونے والوں میں کوئی غیرملکی شامل نہیں ہیں۔
حکام کے مطابق اس دفعہ بھی طالبان کی طرف سے رہائی پانے والے قیدیوں میں افغانستان میں پاکستان کے سفیر طارق عزیزالدین شامل نہیں ہیں جنہیں پشاور سے افغانستان جاتے ہوئے خیبر ایجنسی سے اغواء کیا گیا تھا۔
دوسرت جانب سرکاری ذرائع کے مطابق علاقہ محسود میں فوج نے تین مقامات سے واپسی شروع کی ہے جن میں کوٹ کائی، چگملائی اور سپنکئی راغزئی شامل ہیں۔ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے دو دن پہلے کہا تھا کہ رہائی کے مرحلے کے بعد جنوبی وزیرستان میں بعض علاقوں سے فوج کی واپسی شروع ہوجائےگی۔
یاد رہے کہ حکومت اور محسود قبائل کے دو سرکردہ ملک اکرام الدین اور امیر محمد کے کامیاب مذاکرات کے بعد حکومت اور بیت اللہ گروپ کے قیدیوں کا تبادلہ شروع ہوا تھا۔
گزشتہ چار روز سے بیت اللہ گروپ کے پچپن افراد اور سکیورٹی فورسز کے اٹھارہ اہلکار رہا ہوئے ہیں۔