Friday, 16 May, 2008, 10:47 GMT 15:47 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
طالبان کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اس بات کو تسلیم نہیں کیا جائے گا کہ وہ افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کے خلاف مزاحمت میں حصہ نہیں لیں گے۔
طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ تحریک طالبان ایک ’جہادی تنظیم‘ ہے اور وہ ’جہاد‘ کو ایک مقدس اسلامی
فریضہ سمجھتے ہوئے اس سے دستبردار ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ انکے مطابق حکومت پاکستان کے ساتھ جاری رہنے والی بات چیت میں
اس نکتے کو ہرگز زیر بحث نہیں لایا جائے گا کہ طالبان افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے خلاف مزاحمت میں حصہ نہیں لیں گے۔
|
غیر شرعی
|
مولوی عمر کا مزید کہنا تھا کہ ہزاروں میل دور سے آئے ہوئےغیر ملکی افواج نےافغانستان پر اپنا قبضہ جمایا ہے اور مسلمان ہونے کے ناطے انہیں یہاں سے نکالنا ہمارا ’مذہبی فریضہ‘ ہے ۔انکے بقول حکومت پاکستان کا غیر ملکی افواج کے خلاف مزاحمت نہ کرنے کے مطالبے کو ہم ایک’غیر شرعی‘ عمل تصور کرتے ہیں۔
طالبان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دو روز قبل افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے ترجمان جیمس اپاتھورائے نے دعویٰ
کیا تھا کہ مشرقی افغانستان میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال مزاحمت کاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جسکی ایک وجہ بقول انکے
پاکستانی حکومت اور قبائلی علاقوں میں سرگرم’شدت پسندوں‘ کے درمیان ہونے والے معاہدے ہیں۔
|
|
طالبان اور حکومت کے درمیان جاری بات چیت میں پیشرفت ہورہی ہے۔گزشتہ چند دنوں کے دوران بیت اللہ گروپ کے پچپن اور سکیورٹی فورسز کے اٹھارہ اہلکار رہا ہوئےہیں جبکہ ذرائع کے مطابق فوج نے محسود قبائل کے تین مقامات کوٹ کائی، چگملائی اور سپنکئی راغزئی سے واپسی شروع کردی ہے۔