Wednesday, 14 May, 2008, 10:45 GMT 15:45 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام،اسلام آباد
وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے نئی حکومت نے بہت پیش رفت کی ہے اور آئندہ دو سے تین ہفتوں میں اس سلسلے میں قوم کو خوشخبری سنا سکیں گے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ وزیر اعظم نے تین روز قبل ان کی سربراہی میں ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو لاپتہ افراد کے معاملات کا جائزہ لےگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بابت بہت کام ہوچکا ہے اور آئندہ ہفتے وہ اس کمیٹی کا ایک اجلاس بھی طلب کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے علاوہ اس کمیٹی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اور خفیہ ایجنسیاں شامل ہیں۔
ملک میں جاری ججوں کے تنازعہ کے حوالے سے رحمان ملک نے کہا کہ وہ کوئی ایسا ماورائے آئین قدم نہیں اٹھانا چاہتے جو ملک میں آئینی بحران کی وجہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ اس معاملے کو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جائے۔
مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ جو بھی فیصلہ ہوگا پارلیمان کے سامنے غور کے لیے رکھیں گےکیونکہ ’اگر ہم باہر بیٹھ کر فیصلہ کر لیں تو ہم میں اور ایک آمر میں کیا فرق ہوگا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) مل کے اس قضیے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ضمنی انتخابات میں رحمان ملک کے متنازعہ کردار کے بعد یہ پہلی مرتبہ تھی کہ رحمان ملک نے صحافیوں سے بات کی۔ اس واقعے کے بعد وہ میڈیا سے کنی کترا رہے تھے۔