Tuesday, 13 May, 2008, 21:11 GMT 02:11 PST
نثار کھوکھر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سکھر
امرتسر جیل میں قریباً ایک ماہ سے قید ایک پاکستانی خاندان کے رشتہ داروں نے حکومت پاکستان سے ان کی رہائی میں مدد کی اپیل کی ہے۔
لیاری کے سلطان مندہرو اپنی بیوی امینا عرف آمنا، دو سالہ بیٹی عروج بسمہ اور ان کے ایک مرد رشتہ دار کو سولہ اپریل کے دن ہندستان کے سرحدی ریلوے سٹیشن اٹاری سے گرفتار کیا گیا تھا۔
بھارتی شہر امرتسر میں موجود سلطان کے رشتہ دار صالح محمد نے بی بی سی کو منگل کو فون پر بتایا ہے کہ سلطان کےخاندان کو جعلی سفری دستاویزات رکھنے کے الزام میں بھارتی قانون کی دفعات چار سو بیس ،چار سو اڑسٹھ اور چار سو اکہتر کے تحت گرفتار کر کے امرتسر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
صالح محمد کا کہنا ہے کہ سلطان اور ان کی بیوی کو الگ الگ جیل بیرکوں میں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات کا وقت شام کو ملتا ہے اور وہ دو سالہ پاکستانی قیدی عروج بسمہ کے لیے دودھ اور بسکٹ ضرور لے کر جاتے ہیں۔
امرتسر جیل سرحدی چیک پوسٹ اٹاری سے قریباً پندرہ کلومیٹر دور واقع ہے۔صالح محمد کا کہنا تھا کہ سلطان کےمقدمے کا فیصلہ بدھ کے روز شام تک آنے کی امید ہے اور وہ ان کی رہائی کےمنتظر ہیں۔
کراچی کےعلاقے لیاری کے رہائشی سلطان مندہرو اپنی والدہ حاجراں بائی کی ماں اور اپنی نانی سے ملاقات کی خواہش پوری کرنے بائیس مارچ کو ہندوستان کے سفر پر گئے تھے۔
بھارتی جیل میں قید پاکستانی سلطان کے لیاری میں مقیم بھائی داؤد مندہرو نے فون پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ دونوں ممالک کےدرمیاں ان کے منقسم خاندان کی ملاقاتیں دشوار بن گئی ہیں۔ برسوں کےبعد وہ اگر سفر کرنا چاہتے ہیں تو انہیں جعلی سفری دستاویزات رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سلطان کے خاندان کے سفری کاغذات جعلی تھے تو انہیں ہندوستان میں داخلے کے وقت گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ داؤد کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی سلطان نے دو برس قبل بھارت جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ روپیہ پیسہ جمع کیا تاکہ اپنی ماں کو ان کی ماں سے ملاقات کرواسکے مگر سلطان واپسی پر گرفتار ہوگیا۔
داؤد مندہرو نے پاکستانی حکام اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سےاپیل کی ہے کہ ان کے بھائی سلطان کے خاندان کی انسانی بنیادوں پر رہائی کے لیے کوششیں کی جائیں تاکہ وہ امرتسر جیل میں مزید مقدمات سے نجات حاصل کرسکیں۔