http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 13 May, 2008, 14:50 GMT 19:50 PST

دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ڈیرہ اسمعیل خان

تیسں طالبان کی رہائی متوقع

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان اور حکومت کے درمیان جاری حفیہ مذاکرات کے نتیجے میں بیت اللہ گروپ کے تیس کےقریب جنگجوؤں کی رہائی اگلے چوبیس گھنٹوں تک متوقع ہے۔

جنوبی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو بیت اللہ گروپ کےمقامی طالبان کے تیس جنگجوؤں کو ڈیرہ اسماعیل خان سنٹرل جیل سے ایک ہیلی کاپیٹر کے ذریعے وانا زیڑی نور فوجی کالونی منتقل کردیاگیا۔

ذرائع کے مطابق اس کے بعد ان کو دوبارہ وانا سے شمالی وزیرستان کی تحصیل رزمک لے جائے گیا۔ جہاں محسود قبائل کا جرگہ آسانی کے ساتھ پہنچ سکتا ہے۔

ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ رہا کیے جانے والوں میں کوئی غیر ملکی شامل نہیں اور تمام کے تمام پاکستانی ہیں۔

سرکاری اہلکار نے مزید بتایا کہ بیت اللہ گروپ کی طرف سے کچھ سرکاری اہلکاروں کی رہائی متوقع ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس میں پاکستانی سفیر عزیزالدین شامل ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت مذاکرات میں دو قبائلی سردار اکرام الدین اور امیر محمد شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کامیاب مذاکرات کے بعد محسود کے علاقے میں تمام سڑکیں کھول دی جائیں گی۔

یادرہے کہ موجودہ حکومت کےساتھ بیت اللہ محسودکے ترجمان مولوی عمرنے مذاکرات ختم کرنے کااعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک جنوبی وزیرستان سوات اور درہ ادم خیل سے فوج کو نکالا جائے تب تک ان کے مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔اس کے بعد حکومت نے حفیہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔