Monday, 12 May, 2008, 17:15 GMT 22:15 PST
ارمان صابر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ،کراچی
کراچی میں مزارِقائد پر ایک خاتون کو مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار تینوں ملزمان نے ڈی این اے ٹیسٹ
کی رپورٹ کو چیلنج کرتے ہوئے پولیس سے درخواست کی ہے کہ یہ ٹیسٹ کسی اور لیبارٹری سے دوبارہ کرائیں جائیں۔
پولیس کے مطابق خادم حسین کو خاتون نے بطور ملزم شناخت کیا تھا جبکہ عارف انصاری اور راجہ محمد عارف کو ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس نے ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ راولپنڈی میں واقع ایک سرکاری لیبارٹری سے کروائے تھے اور ملزمان کے اعتراض کے بعد ڈی این اے کے لئے بھیجے گئے نمونے واپس منگوالئے گئے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر ان نمونوں کو کسی دوسری لیبارٹری بھیجا جاسکے۔
اس کیس کے ایک تفتیشی افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ قائدِاعظم کے مزار کے احاطے میں پولیس کا داخلہ ممنوع ہے اور وہاں کی سیکیورٹی کا انتظام الگ سیکیورٹی گارڈز کی ذمہ داری ہے جس کا سربراہ ایک ریٹائرڈ میجر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے پولیس نے جو نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھیجے تھے ان کے نتیجے مثبت آنے کے بعد کیس مضبوط ہوچکا ہے اور ملزمان کو سزا دلوانے کے لئے ڈی این اے کا نتیجہ کافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب اگر دوبارہ ٹیسٹ کرایا جاتا ہے تو ملزمان کے حامی افراد نظر رکھیں گے کہ ٹیسٹ کس لیبارٹری سےکرایا جا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ٹیسٹ کے نتائج پر اثرانداز ہوں۔