http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 11 May, 2008, 11:51 GMT 16:51 PST

ساجد اقبال
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

شاید دبئی سے کچھ پیچھے چلے گئے: نواز

پاکستان مسلم لیگ(نواز) اور پی پی پی کی چار رکنی کمیٹی اختلافات کو دور کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ اتوار کے روز کمیٹی کے مذاکرات کے دو دور ہوئے جن میں دونوں پارٹیوں کے درمیان اختلافات کو ختم نہیں کیا جا سکا۔

نواز شریف سے خصوصی انٹرویو

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے مذاکرات کے بعد کہا کہ اب بھی کچھ نکات پر اختلاف رائے موجود ہے۔ پیپلزپارٹی کی طرف سے مذاکرات میں شرکت کرنے والے حسین حقانی نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان مفاہمت کا جذبہ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بارہ مئی کی ڈیڈ لائن گزر بھی گئی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پیش رفت نہیں ہو سکتی۔

اس سے پہلے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ مسٹر رچرڈ باؤچر کی مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف سے ملاقات برطانیہ کے مقامی وقت کے مطابق ساڑھے نو نجے شروع ہوئی اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔

لندن کے متمول رہائشی علاقے پارک لین میں نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر موجود ایک پاکستان اخبار نویس کے مطابق ملاقات کے وقت رچرڈ باؤچر کے ساتھ ایک اور امریکی اہلکار بھی موجود تھے۔

وہاں موجود اخبارنویسوں نے رچرڈ باؤچر سے بات چیت کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

اگرچہ مذاکرات کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ رچرڈ باؤچر ججوں کی بحالی کے مسئلہ پر جاری تعطل ختم کرنے کی کوشش میں یہاں آئے ہیں۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے صبح سے ہی اس ملاقات کے مارے میں کافی رازداری برتی جارہی تھی۔

امریکی نائب وزیر خارجہ نے بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ مسٹر رچرڈ باؤچر بنگلہ دیش سے واشنگٹن جاتے ہوئے لندن میں رکے تھے۔

مسلم لیگ نواز نے قائد میاں نواز شریف نے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر سے ملاقات کے بارے میں کہا کہ نہ انہوں نہ ہمیں کوئی مشورہ دیا اور نہ ہم نے ان سے کوئی مشورہ مانگا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مجھ سے وقت مانگا تھا اور انہیں کی درخواست پر آج ملاقات ہوئی ہے اور انہوں نے آ کر بات چیت کی ہے۔

’قومی اور دو طرفہ امور پر ہماری بات ہوئی ہے۔ بات چیت کا سلسلہ تو پہلے بھی چلتا رہا ہے۔ اب بات چیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم امریکہ سے پوچھ کر اپنے فیصلے کریں گے۔‘

مسلیم لیگ (ن) کی قیادت اتوار کی شام کو پاکستان روانہ ہو رہی ہے جہاں انہوں نے اسلام آباد میں پیر کے روز اپنی پارلیمانی پارٹی اور مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا ہے جہاں وہ پارٹی کے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے نمائندوں پر مشتمل چار رکنی کمیٹی کا اجلاس بھی جاری رہا۔ جو ججوں کی بحالی پر پائے جانے والے ڈیڈلاک کو دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

کمیٹی رحمن ملک، حسین حقانی، خوآجہ آصف اور شہباز شریف پر مشتمل ہے۔
کمیٹی اس وقت تشکیل دی گئی تھی جب نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان ججوں کی بحالی کے لیے ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے تھے۔

گزشتہ روز ججوں کی بحالی کے طریقۂ کار پر اختلافات کو دور کرنے کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے درمیان لندن میں ہفتے کو ہونے والے مذاکرات بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے اور مسلم لیگ نون کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار کو وطن واپس جا رہے ہیں۔