Saturday, 10 May, 2008, 12:58 GMT 17:58 PST
عزیز اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں سنیچر کو صبح سویرے سوئی کے مضافات میں سکیورٹی فورسز نے مبینہ سرچ آپریشن میں لگ بھگ پچاس افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ دو بھائیوں کی ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
ڈیرہ بگٹی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی سوئی اور جعفرآباد کے سرحدی علاقے پٹ فیڈر میں لنجو صغاری اور قریبی دیہاتوں میں کی گئی ہے جہاں پچاس افراد کو گرفتار کرکے دو ٹرکوں میں ڈیرہ بگٹی لایا گیا ہے۔
جمہوری وطن پارٹی کے ڈیرہ بگٹی کے رہنما شیر محمد بگٹی نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ اس کارروائی میں فورسز نے کئی مکانات اور تیار فصلوں کو آگ لگا دی ہے اور دو افراد کو ہلاک کیا ہے۔
سوئی سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ اس کارروائی میں سوئی سے فرنٹیئر کور اور ادھر سندھ کی جانب سے رینجرز نے حصہ لیا ہے اور گرفتار افراد کو سوئی بازار سے گزار کر ڈیرہ بگٹی لے جایا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
یاد رہے دسمبر دو ہزار پانچ میں جب کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا تو سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی
جا رہی تھی لیکن مقامی لوگ مسلسل یہ بتا رہے تھے کہ ان علاقوں میں فوجی کارروائی ہو رہی ہے جس کی بعد یہ کہہ کر تصدیق کر دی گئی
تھی کہ یہ کارروائی فراری کیمپوں کے خلاف ہو رہی ہے جہاں مشتبہ افراد روپوش ہیں اور قومی تنصیبات پر حملے کر رہے ہیں۔ اس کے بعد
اگست دو ہزار چھ میں نواب اکبر بگٹی کو ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا۔
|
کارروائی سے قبل بریفنگ دی گئی
|
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کوئٹہ کے دورے کے دوران کہا تھا کہ انہوں نے فوجی حکام سے کہا تھا کہ جب تک انہیں بلوچستان حکومت کے سربراہوں کے ہمراہ بریفنگ نہیں دی جاتی تب تک بلوچستان میں فوجی آپریشن روکا جائے لیکن جس وقت وہ کابینہ سے خطاب کر رہے تھے اس وقت بھی فوجی کارروائی کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔
جمہوری وطن پارٹی براہمدغ گروپ کے رہنما عبدالقادر قلندرانی نے کہا ہے کہ کچھ روز پہلے تین بگٹیوں کو جلا دیا گیا تھا اور بڑی تعداد میں مری بگٹی قبیلے کے لوگ بے گھر پڑے ہیں لیکن نہ تو حکومت اور نہ ہی بین الاقوامی تنظیمیں اس غیر انسانی رویوں کی طرف توجہ دے رہی ہیں۔