Saturday, 10 May, 2008, 10:27 GMT 15:27 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے کنوینیئر اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ کراچی کے سانحے کے حوالے سے بارہ مئی یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا اور اگر بارہ مئی کو جج بحال نہ ہوئے تو اے پی ڈی ایم اس بارے میں لائحہ عمل کا اعلان چودہ تاریخ کو کرے گی۔
کوئٹہ پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کراچی میں قتل و غارت کے واقعات کو ایک سال پورا ہو گیا ہے لیکن نہ تو اس واقعے کی تحقیقات ہو ئی ہیں اور ناں ہی ذمہ دار افراد کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بارہ مئی کو کراچی میں حساس اداروں کے دفاتر کو بند کرکے سڑکوں پر لوگوں کو قتل کیا جا رہا تھا اور اب تک کسی کو اس کا ذمہ دار بھی نہیں ٹھہرایا گیا۔
محمود خان نے کہا کہ اگر بارہ مئی کو جج بحال نہ ہوئے تو اس بارے میں چودہ مئی کو اے پی ڈی ایم کا اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ یاد رہے اے پی ڈی ایم نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور موجود حکومت کو عدلیہ کی بحالی کے لیے وقت بھی دیا ہے لیکن اب محمود خان نے کہا ہے کہ نہ تو وکیل اور ناں ہی سیاسی جماعتیں حکمرانوں کو مزید وقت دے سکتے ہیں۔
محمود خان کے مطابق ملک میں سول اور ملٹری بیوروکریسی کی غلط پالیسویں اور بدعنوانیوں کی وجہ سے پاکستان تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور اگر اس وقت ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ ہو۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت سیاسی جماعتیں اور ماہرین نے اس ملک کو شطرنج کا کھیل بنایا ہوا ہے کوئی کہتا ہے قرار داد تو کوئی تین نومبر اکثرت کی بات کرتا ہے لیکن ایک عام شخص کی حیثیت سے وہ ہ کہتے ہیں کہ دو مئی کے واقعے کے حوالے سے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے خود ایک بین الاقوامی میڈیا کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا اقدام غیر آئینی تھا تو ماہرین اس بیان پر توجہ کیوں نہیں دیتے کہ اسے آئینی بنایا جائے۔
محمود خان نے کہا کہ وہ ان قوتوں کا ساتھ دیں گے جو پاکستان میں جمہوریت کے قیام اور آزاد عدلیہ کے حق میں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز دونوں جماعتیں آمریت کی ڈسی ہوئی ہیں اور دونوں کو ہی احساس ہوگا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کس طرح بحال ہو سکتی ہے۔