Thursday, 08 May, 2008, 07:19 GMT 12:19 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
کوئٹہ میں آج مکمل ہڑتال کی جا رہی ہے کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہیں جبکہ شہر میں ٹریفک بھی معمول سے کم ہے جبکہ سی ڈیز اور الیکٹرانکس کی دکانوں کے پاس سے مبینہ طور پر الرشید بریگیڈ کے خط سمیت بم برآمد ہوئے ہیں۔
یہ ہڑتال گزشتہ روز سرکی روڈ پر کباڑی مارکیٹ میں مبینہ طور پر ڈکیتی کی واردات کے دوران دو تاجروں کی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کے واقعہ کے خلاف کی جا رہی ہے۔ اس ہڑتال کی اپیل مرکز انجمن تاجران اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے کی تھی۔ پولیس نے اس واقعہ کے بعد بارہ افراد کو حراست میں لیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
مرکزی اجمن تاجران کے صدر رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر میں اغوا ڈکیتی اور چوری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ یہ وقت ایک ہندو تاجر سمیت تین افراد اغوا ہیں جبکہ کئی تاجروں کے ٹرکوں کو لوٹا گیا ہے۔
اس کے علاوہ گزشتہ روز کوئٹہ میں نجیب سٹریٹ میں
الیکٹرانکس اور سی ڈیز کی دکانوں کے پاس سے سوا کلو وزنی بم برآمد ہوا تھا جسے ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔
کوئٹہ کے پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ اس بم کے ساتھ ایک خط ملا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ سی ڈیز، الیکٹرانکس، کیبل اور سینما کے مالکان اپنے اپنے کاروبار بند کر دیں وگرنہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔
اس خط میں لکھا تھا کے جن گھروں کی چھتوں پر ڈش اینٹنا لگا ہوگا وہاں بھی بم پھینکے جائیں گے۔
الرشید بریگیڈ کا نام یہاں کوئٹہ میں پہلی مرتبہ سنا گیا ہے اور سی ڈیز کی دکانوں پر اس طرح کے دھمکی آمیز خطوط بھی پہلی مرتبہ سامنے آئے ہیں۔ پولیس حکام نے کہا ہے کہ سی آئی ڈی پولیس اس بارے میں تحقیقات کر رہی ہے ۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد میں جامعہ حفضہ اور صوبہ سرحد میں سکولوں اور سی ڈی کی دکانوں پر حملوں کے واقعات کے باوجود بلوچستان میں اس طرح کی کوئی کارروائی نظر نہیں آ رہی تھی لیکن اب اچانک اس طرح کے خط اور پمفلٹ سامنے آنے سے مقامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔