http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 07 May, 2008, 17:28 GMT 22:28 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

کوئٹہ: پرتشدد واقعات، چار ہلاک

کوئٹہ میں تشدد کے مختلف واقعات میں چار افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے ہیں۔ مرنے والوں میں پولیس کا ایک اہلکار بھی شامل ہے۔

کوئٹہ کے پولیس افسر محمد اکبر نے بتایا ہے کہ سریاب تھانے کے دو اہلکار موٹر سائیکل پر گشت کر رہے تھے کہ اچانک نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے سپاہی محمد ناصر ہلاک ہوگئے جبکہ ہیڈ کانسٹیبل نور احمد شاہوانی شدید زخمی ہیں۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کی زد میں ایک ریڑھی والا بھی آیا ہے جس کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

کوئٹہ میں ہی مبینہ ڈکیتی کی ایک واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر مسلح افراد نے دو تاجروں کو ہلاک اور دو کو زخمی کر دیا ہے جس پر تاجروں نے احتجاج کیا ہے اور کل یعنی جمعرات کے روز شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے۔

یہ واقعہ کوئٹہ کے ڈبل روڈ پر کباڑی مارکیٹ میں پیش آیا ہے۔ عینی شاہدوں نے بتایا ہے کہ تین مسلح افراد نے اسلحہ کی نوک پر تاجروں سے رقم چھیننا چاہی جس پر تاجروں نے مزاحمت کی تو مسلح افراد نے فائرنگ شروع کر دی ہے جس سے چار تاجر زخمی ہوئے ہیں ۔ سول ہسپتال میں دو زخمی دم توڑ گئے ہیں ۔ مسلح حملہ آور واقعے کے بعد فرار ہوگئے ہیں۔

اس واقعے کے بعد سریاب روڈ پر دکانیں اور کاروباری مراکز بند کر دیے گئے۔

ایک ہفتہ پہلے بھی کوئٹہ میں موٹر سائیکل پر گشت کرنے والے پولیس اہلکاروں پر عدالت روڈ پر فائرنگ کی گئی تھی جس میں ایک اہلکار ہلاک گیا تھا۔

کوئٹہ کے ڈبل روڈ پر فائرنگ کے ایک اور واقعہ میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس حکام نےبتایا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعہ کی وجوہات کا علم نہیں ہو سکا۔ سول ہسپتال میں جب زخمیوں کو لایا گیا تو اس وقت زخمیوں کے ساتھ آنے والے افراد کافی مشتعل تھے اور انہوں نے ہسپتال کے عملے کو زدو کوب کیا ہے۔

تاجروں پر حملے کے واقعہ کے بعد تاجروں اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور لاشوں کو جلوس کی صورت میں میزان چوک لائے جہاں مظاہرین نے حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی ہے۔

تاجروں اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے کل یعنی جمعرات کے روز کوئٹہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی ہے جبکہ جمعیت علماء اسلام کے نظریاتی گروپ نے اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔