Tuesday, 06 May, 2008, 07:13 GMT 12:13 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو مزدور زخمی ہوئے ہیں جبکہ نامعلوم افراد نے کچھی کینال پر کام کرنے والے مزدوروں کے کیمپ پر فائرنگ کی ہے، لیکن کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ دریں اثناء ڈیرہ اللہ یار میں فوجی آپریشن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔
ڈیرہ بگٹی اور کاہان میں مبینہ طور پر سرچ آپریشن کے دوران شدت اور اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق کچھی کینال کے قریب لنجو سغاری کے علاقے میں مزدوروں کو لے جانے والی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس سے دو مزدور زخمی اور گاڑی تباہ ہوگئی ہے۔
پیر کوہ کے علاقے میں نامعلوم افراد نے وڈیرہ بہار خان اور وڈیرہ محراب خان کے مکان پر دو دستی بم پھینکے ہیں لیکن کوئی جان نقصان نہیں ہوا ہے۔
ڈیرہ بگٹی میں تین روز قبل ایک مبینہ سرچ آپریشن کے دوران مکانات کو آگ لگانے کے واقعے کے بعد اب مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ مرو
کے علاقے میں
بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کر لی ہے۔ اس علاقے میں لگ بھگ تین سو کے قریب گھرانے آباد ہیں۔
دریں اثناء اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر کہا ہے کہ تین روز پہلےسکیورٹی فورسز نے سنگسیلہ کے قریب تین بے گناہ افراد کو مار کر انھیں آگ لگا دی تھی اور اس کا بدلہ اب وہ ضرور لیں گے۔
اس حوالے سے ڈیرہ اللہ یار میں جمہوری وطن پارٹی کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور سڑک پر دھرنا دیا ہے۔ مظاہرے کی قیادت کرنے والے مرید بگٹی نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ٹھاکر یہ کہہ رہے ہیں کہ مذاکرات کرو، تو ایسی حالت میں جب بلوچوں کا قتل عام ہو رہا ہے مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں۔
ادھر کاہان سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز بالاچ مری اور گزین مری کے مکانات کے تالے توڑ کر سامان ساتھ لے گئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ کوہلو کے ضلعی ناظم انجینئر علی گل مری نے اس کارروائی کی مذمت کی ہے۔