Monday, 05 May, 2008, 08:29 GMT 13:29 PST
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میثاق جمہوریت اور بھوربن معاہدے کے مطابق ماضی میں عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اٹھانے والے تمام ججوں کو برطرف کر دیا جانا چاہیے۔
بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عبوری آئینی حکمنامے یا پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے تمام ججوں کو برطرف کیئے جانے کا مطالبہ وہ نہیں کر رہے بلکہ یہ میثاق جمہوریت اور بھور بن معاہدے میں درج ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اصولوں کو معیار بنایا جائے تو یہی ہونا چاہیے ورنہ خواہشات کو معیار بنا کے فیصلے کیئے جائیں تو اور بات ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ افتخار محمد چودھری سمیت سپریم کورٹ کے موجودہ تمام جج پی سی او کے تحت ماضی میں حلف اٹھا چکے ہیں۔
مخلوط حکومت میں شامل دو بڑی جماعتوں کی طرف سے ججوں کے مسئلے کو آئندہ دو ہفتوں کے دوران حل کرنے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب اس مسئلہ پر ایک کمیٹی بنائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر پہلے بھی مذاکرات ہوچکے ہیں، بھور بن میں مذاکرات ہوئے پھر دبئی میں مذاکرات ہوئے اب حرف اول سے کمیٹی دوبارہ شروع کرے گی۔
انہوں نے اس مسئلہ کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ اور معذول ججوں سب کو ایک قرار داد کےذریعے بحال کر دیا گیا تو آدھے ججوں کو سیاست دانوں کی پشت پناہی حاصل ہو گی اور آدھوں کی حمایت جرنیل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں آئینی ترامیم لا کر ہی حل کیا جانا چاہیے۔