Friday, 02 May, 2008, 13:48 GMT 18:48 PST
احمد رضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستانی وکلاء کی معزول ججوں کی بحالی کی تحریک کے اہم رہنما منیر اے ملک نے حکمران اتحاد کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے کہ ججوں کی بحالی کے لیے قرارداد بارہ مئی کو قومی اسمبلی میں پیش کردی جائے گی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک مثبت قدم ہے جس کا بڑی شدت سے انتظار کیا جارہا تھا، ہمیں خوشی ہے کہ بدیر آید درست آید‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ابھی تک قرارداد کا مسودہ ہمارے پاس نہیں ہے لیکن یہ ہے کہ ججز قرارداد کے ذریعے بحال ہوں گے اور اس کے بعد انتظامی حکم نامہ جاری ہوگا، یہی ہماری جدوجہد کا مقصد تھا‘۔
انہوں نے ججوں کی بحالی کے معاملے پر مجوزہ آئینی پیکج کے بارے میں کہا کہ ’حکومت نے ابھی آئینی پیکج کو قوم کے سامنے پیش نہیں کیا ہے لیکن یہ خوشی کی بات ہے کہ قرارداد اور آئینی پیکج کو الگ الگ کیاگیا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اس بات کی مجاز ہے کہ وہ آئین میں ترمیم کرے اور عدالتی اصلاحات بھی لائے لیکن یہ نہ ہو کہ عدالتی اصلاحات
کا تعلق کسی فرد واحد سے ہو۔
|
بارہ مئی، قربانی کا سب سے بڑا دن
|
انہوں نے کہا کہ ’یہ دن کسی خاص گروپ کے خلاف ٹارگیٹڈ نہیں ہے یہ صرف قربانیوں کو یاد کرنے کا ایک طریقہ ہے‘۔
’آپ کو یاد ہوگا کہ اعلان مری بھی نو مارچ کو ہی آیا تھا تو اس کی بھی اہمیت تھی اور بارہ مئی کو اگر قرارداد لائی جارہی ہے تو یہ بھی اچھی بات ہے‘۔