http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 01 May, 2008, 01:09 GMT 06:09 PST

دبئی مذاکرات طول پکڑ گئے

پاکستان میں معطل شدہ ججوں کی بحالی کے مسئلہ پر ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے درمیان دبئی میں جاری مذاکرات طول پکڑ گئے ہیں اور ان کا دوسرا دور جمعرات کو ہو رہا ہے۔

ججوں کی بحال پر مذاکرات میں پیش رفت
مخلوط حکومت میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے درمیان بدھ کو مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا تھا۔

ججوں کی بحالی آئینی پیکج کے تحت:زرداری

واضح رہے کہ آصف زرداری اور میاں شہباز شریف کے درمیان اس ہفتے کے شروع میں دو دن تک مذاکرات ہوئِے تھے لیکن ججوں کی بحالی کے معاملہ پر کوئی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔ اس کے بعد میاں نواز شریف پاکستان میں اپنی تمام مصروفیات ترک کر کے منگل کو بغیر کسی پیشگی اعلان کے دبئی پہنچے تھے۔

دریں اثناء مسلم لیگ نون کی طرف سے ججوں کی بحالی کے لیے دی جانے والی تیس دن کی مہلت بھی گزشتہ روز ختم ہو گئی ہے اور اس مسئلہ پر دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔

گزشتہ چند روز میں دونوں جماعتوں کے سربراہوں کی طرف سے دیئے جانے والے بیانات سے اس مسئلہ پر ان کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زرداری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں واضح طور میں کہا تھا کہ ججوں کی بحالی ایک آئینی پیکج کے تحت عمل میں لائی جائے گی اور اس آئینی پیکج میں عدالیہ میں اصلاحات کی ترامیم بھی شامل ہوں گی۔

ججوں کی بحالی کے حوالے سے بھور بن میں ہونے والے معاہدے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی انہوں نے یہی کہا تھا کہ ججوں کی بحالی ایک آئینی پیکج کے تحت ہوگی۔

دوسری طرف میاں نواز شریف نے دبئی روانگی سے قبل لاہور کے ہوائی اڈے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اعلان مری کی صورت میں وہ قوم کے سامنے اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں جس کے تحت عدلیہ کوایک سادہ قرارداد کے ذریعے دو نومبر والی پوزیشن پر بحال کیا جانا ہے اور اس کے لیے آخری تاریخ تیس اپریل ہے۔

ججوں کی بحالی کے حوالے سے دبئی میں جاری ان مذاکرات میں ان جماعتوں کے سربراہوں کے علاوہ ان کے سرکردہ رہنما بھی شامل ہیں۔

آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان پہلے دور کے اختتام پر دونوں طرف سے یہ دعوی کیا گیا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ ایک ماہ قبل انہی رہنماؤں کے درمیان اسی مسئلہ پر بھور بن میں ایک معاہدہ پر دستخط ہوئے تھے جس کے بعد قوم کو یہ نوید سنائی گئی تھی کہ معطل ججوں کی بحالی کا مسئلہ طے پا گیا ہے ۔