آصف فاروقی
بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد۔
سینیٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو کو سینیٹ کے اجلاس میں اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب حزب اقتدار کے بعض سینیٹرز نے ان کی نگران وزیر اعظم کے طور پر کی گئی تقرریوں کو ایوان میں زیربحث لا کر نگران حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
سینیٹر انور بیگ کے ضمنی سوال پر کابینہ ڈویژن کے انچارج وزیر قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ یہ بھرتیاں غلط اور بلا جواز تھیں کیونکہ ان میں سے بیشتر ریٹائرڈ بیوروکریٹ تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر یہ طریقہ تکنیکی یا پیشہ ور افراد کے لئے اپنایا جاتا تو اس کی توجیح بیان کی جا سکتی تھی لیکن نگران حکومت نے بیوروکریٹس کو تعینات کر کے ایک غلط روایت قائم کی ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ سینیٹ نے خالد سعید کی بطور چیئرمین نیپرا تعیناتی کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کی تھی۔ الیاس بلور نے چیئرمین سینیٹ جو کہ اس وقت نگران وزیر اعظم کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے اور آج اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لیکن نگران حکومت نے سینیٹ کی اس متفقہ قراردار کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی۔
سینیٹ کے بعض دیگر ارکان نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا جس پر انچارج وزیر کابینہ ڈویژن بار بار کہتے رہے کہ آپ حضرات کی تنقید درست ہے نگران حکومت نے غلط روایات قائم کی ہیں۔ چیئرمین سینیٹ میاں محمد سومرو نے جب دیکھا کہ وفاقی وزیر بھی ان کا تحفظ کرنے کے بجائے ارکان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں تو انہوں نے خود ہی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقرریاں ضوابط کے مطابق کی گئی تھیں اور انہی لوگوں کو رکھا گیا جو مطلوبہ معیار پورا کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ ان افسران کی کارکردگی کو دیکھنے کے بعد فیصلہ کرے۔ ان افسران کو اپنی کارکردگی دکھانے کا ایک موقع تو ضرور ملنا چاہئے۔
محمد میاں سومرو نے وزیراعظم کے طور پر اپنے پرنسپل سیکرٹری خالد سعید کو چیئرمین نیپرا تعینات کرنے کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ اگر وہ نئی ذمہ داری کے تحت بجلی کے بحران پر قابو پانے میں ناکام رہیں توضرور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
سینیٹرز کے اصرار کے باوجود چیئرمین سینیٹ نے اس موضوع پر مزید بحث کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔