علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے ججوں کی بحالی کے لیے دوبئی مذاکرات کی مذمت کی اور کہا ہے کہ یہ مذاکرات بیرون ملک اس لیے کیے جارہے ہیں تاکہ اہم فیصلے عوام سے چھپائے جاسکیں اور یہ معلوم نہ ہوسکے کہ کون کون ان سے مل رہا ہے اور کون سی قوتیں اثر انداز ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون نے اب تک جو مؤقف اختیار کیا ہے وہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔ حکمران اتحاد کو ججوں کی بحالی کے لیے مزید دوہفتے کی مہلت دی جاسکتی ہے البتہ حکمران اتحاد کے لیے ججوں کی بحالی سے دستبردار ہونے کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔
قاضی حسین احمد نے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری نے ججوں کی بحالی کے لیے اعلان مری کی صورت میں قوم کے سامنے تحریری وعدہ کیا ہے جو انہیں پورا کرنا ہی ہوگا۔
جماعت اسلامی ان سیاسی جماعتوں میں شامل ہے جس نے اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کا اتحاد ٹوٹ جائے۔ اس کی بجائے صدر مشرف اور ان کی آمریت کو رخصت ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا پرویز مشرف نے تین نومبرکو چیف آف آرمی سٹاف کی حثیت سے جو فیصلے کیے وہ بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں اور نئے حکمرانوں
کو فوری طور پر ان کا مواخذہ کر کے ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی۔
|
|
جماعت اسلامی کے ہیڈکواٹر منصورہ میں ہونے والی پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے نائب امراء لیاقت بلوچ، اسلم سلیمی حافظ ادریس اور سیکرٹری جنرل سید منور حسن بھی موجود تھے۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے کہا کہ ججوں کی بحالی اور دیگر صورتحال پر غور کے لیے آل پارٹیز ڈیموکریٹک مووممنٹ یعنی اے پی ڈی ایم کا اجلاس چودہ مئی کو بلایا جارہا ہے۔