Thursday, 24 April, 2008, 09:36 GMT 14:36 PST
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کے کمانڈر بیت اللہ محسود نے اپنے ساتھیوں کو اندرون پاکستان تمام حملے بند کرنے کی ہدایت دی ہے۔
بیت اللہ محسود کی جانب سے یہ حکم حکومت پاکستان کی جانب سے امن مذاکرات شروع کیے جانے کے بعد دیا گیا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ بیت اللہ محسود افغانستان سے لگنے والے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں رو پوش ہیں اور ان کے القاعدہ سے بھی روابط ہیں۔ حکومت پاکستان کے مطابق سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل میں بھی ان کا ہاتھ تھا۔
جنگ بندی کا اعلان ان خبروں کے پس منظر میں کیا گیا ہے کہ حکومت اور مقامی قبائل کے درمیان جلدی ہی امن سمجھوتہ ہونے والا ہے۔
|
|
ایک مقامی سرکاری افسر کے مطابق یہ قدم اعتماد بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق قیام امن کے لیے جس معاہدے کو حتمی شکل دی جارہی ہے اس میں عسکریت پسندی کے خاتمے، قیدیوں کے تبادلے اور علاقے سے فوج کی واپسی کی بات کہی گئی ہے۔
ساتھ ہی محسود قبائل کو علاقے سے غیر ملکی شدت پسندوں کو باہر نکالنا ہوگا۔
امریکہ نے امن مذاکرات کی محتاط انداز میں حمایت تو کی ہے لیکن اس کا کہنا ہےکہ ایسے معاہدوں کا اطلاق بہت مشکل ہوتا ہے۔ ماضی
میں بھی اس قسم کے معاہدے ہوئے ہیں اور بعض لوگوں کا خیال ہےکہ ان سے شدت پسندوں کوقبائلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا
موقع ملا ہے۔
![]() |
|
| فوجی کارروائی کا خاص فائدہ نہیں ہوا |
پاکستان کی نئی حکومت کہہ چکی ہے کہ وہ اس مسئلے سے مذاکرات کے ذریعہ نمٹے گی۔ پیر کی شب اس نے کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہمولانا صوفی محمد کو رہا کیا گیا تھا۔
طالبان کے ترجمان مولوی عمر کے مطابق حکومت نے خیر سگالی کے طورپر مولانا صوفی محمد کو رہا کیا ہے۔
جو پمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں ان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’تحریک طالبان کو بیت اللہ محسود کی جانب سے حکم دیا جاتا ہے کہ وہ امن کی خاطر تمام اشتعیال انگیز کارروائیاں بند کر دیں۔۔۔ خلاف ورزی کرنے والوں کی کوئی دلیل نہیں سنی جائے گی۔‘
مولوی عمر کے مطابق پاکستانی افواج نے جنوبی وزیرستان کے بعض علاقوں سے واپسی شروع کر دی ہے۔
لیکن پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق افواج کی واپسی کے لیے انہیں ابھی کوئی حکم نہیں ملا ہے۔