Tuesday, 22 April, 2008, 15:34 GMT 20:34 PST
ذیشان ظفر
اسلام آباد
پاکستان بار کونسل نے حکمران اتحادی جماعتوں کو تیس اپریل تک کا وقت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مقررہ تاریخ تک معزول ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا ہے تو تین مئی کو آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں پاکستان بار کونسل کے ہونے والے ایک اجلاس کے بعد پاکستان بار کونسل کے نائب صدر سید رحمان ایڈوکیٹ نے ایک پریس کانفرس میں کہا ہے کہ وکلاء حکومت کے حیلے بہانوں سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ جلد عدلیہ کو دو نومبر دو ہزار سات والی پوزیشن پر بحال کیا جائے۔
اس موقع پر پاکستان بار کونسل کے چئیرمین ایگزیکٹو کمیٹی رشید اے رضوی نے کہا ہے کہ تیس اپریل کو ججوں کو بحالی کی الٹی گنتی ختم ہو رہی ہے اور اگر تیس اپریل تک ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا ہے تو تین مئی پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نہ کہا کہ وہ کسی سکروٹنی کمیٹی کو نہیں مانتے ہیں اور نہ ہی یہ اعلان مری کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ججوں کی بحالی کے لیے وقت اور موقع دینے کے لیے چھبیس اپریل کو کراچی میں ہونے والا وکلاء کنونشن منسوخ کر دیا گیا ہے جس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
رشید اے رضوی نے کہا کہ وکلا کوئی الٹی سیدھی گنتی نہیں گن رہے ہیں بلکہ وہ اس تاریخ کا انتظار کر رہے ہیں جو اعلان مری میں طے کی گئی ہے۔
منگل کے روز حکمران جماعتوں کی طرف سے ججوں کی بحالی کے معاملے پر ایک کمیٹی کی تشکیل پر انہوں نے کہا کہ اس ملک میں جب بھی کسی بات یا ایشو پر کوئی کمیٹی بنتی ہے تو اس کا انجام برا ہی ہوتا رہا ہے ‘۔
رشید اے رضوی نے کہا ا کہ جب سپریم کورٹ کے تیس سے زائد ریٹائرڈ ججوں نے جن میں پانچ سابق چیف جسٹس بھی شامل ہیں کہہ دیا ہے کہ ججوں کو بحال کرنے کے لیے کسی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں بلکہ وہ سادہ ایگزیکٹو حکم نامے سے بحال کیے جا سکتے ہیں تو پھر معاملے کو پیچیدہ کیوں بنایا جا رہا ہے ۔
انہوں نہ کہا کہ عدلیہ میں اصلاحات کا معاملہ الگ ہے، چاہے پارلیمان اصلاحات کے دس پیکج لائے لیکن ججوں کو بحال کرنا مختلف معاملہ ہے۔ انہوں نہ کہا کہ پہلے ججوں کو بحال تو کیا جائے۔