Monday, 21 April, 2008, 01:54 GMT 06:54 PST
ایوب ترین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
تین سال قبل ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کاہان سے نقل مکانی کر نے والے ہزاروں بگٹی اور مری بلوچ قبائل جعفر آباد اور نصیر آباد کے علاقے میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
پیپلز پارٹی کے وزیر اعلی اسلم ر ئیسانی کی صوبائی حکومت نے انہیں دوبارہ ڈیرہ بگٹی اور کوہلوکاہان میں آباد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
بلوچستان کے ڈیرہ مراد جمالی کے کیمپوں اورجھاڑیوں سے بنے ان کے ٹھکانوں کا دورہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہزاروں بگٹی اور مری قبائل کے لوگ کن حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ڈیرہ مراد جمالی کے ربیع کینال کے کنارے ان مہاجر بلوچوں کے بچوں میں قے اوردست کی بیماریاں عام ہیں۔
ڈیرہ مراد جمالی میں مقیم بگٹی اور مری قبائل کے بچے سکولوں میں نہیں جاتے ہیں کیونکہ مقامی ان بچوں کو سکول میں داخلہ دینے سے گریزاں ہیں۔
ڈیرہ بگٹی میں آٹھویں جماعت تک پڑھنے والے ایک انیس سالہ نوجوان صادق بگٹی نے بتایا کہ جب وہ بگٹی سے سکول سرٹیفکیٹ لینے جاتے ہیں تو انہیں دہشتگرد سمجھا جاتا ہے اور سکول سرٹیفکیٹ دینے کیلئے تیار نہیں ہوتا ہے۔
ڈیرہ مراد جمالی میں واقع شاہی چوکی نامی کیمپ میں ایک بگٹی استاد، قادر بگٹی نے برے حالات کے باوجود بچوں کو تعلیم دینے کا کام ترک نہیں کیا۔
قادر بگٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت یہ سکول شروع کر رکھا ہے کیونکہ مقامی سکولوں میں ان کے بچوں کوداخلہ نہیں دیا جا رہا۔
شاہی چوکی کیمپ میں کئی بچوں کو پیٹ کی بیماریوں سے انتہائی لاغر حالت میں دیکھا۔ کیمپ میں ایسے بچے بھی ہیں جو اپنے ایک ایک گردے سے محروم ہوچکے تھے۔ بگٹیوں کا کہنا ہے کہ کہ ڈاکٹروں نے انہیں بتایا ہے کہ گردوں کی خرابی کا ایک سبب گندا پانی ہے۔
ان کے مطابق اس بیماری سے گزشتہ ہفتے بھی تین بچے مرے تھے۔ کئی بچوں کے جسم پرایک عجیب قسم کے دانے نکلے تھے لیکن والدین کے پاس ان بچوں کے علاج کےلیے پیسے نہیں ہیں اور نہ ہی آج تک حکومت یاکسی این جی اوز کی جانب سے اس کی کسی قسم کی امداد فراہم کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال یونیسیف نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس کے مطابق بلوچستان میں اسی ہزار سے زیادہ بے گھر ہونے والے ایسے متاثرین ہیں جنہیں ہنگامی بنیادوں پر خوراک ،صحت ،پینے کے لیے صاف پانی اوررہا ئش کی ضرورت ہے ان متاثرین میں زیادہ تعداد ان بچوں اور خواتین کی ہے جو خطرناک حد تک عدم غذائیت کاشکار ہیں۔
حکومت پاکستان اور بلوچستان نے نہ صر ف یونیسیف رپورٹ کوسیاسی بنیادوں پر مستر د کر دیا تھا بلکہ یونیسف اور دیگرامدادی اداروں
کام کرنے سے بھی روک دیا تھا۔