Saturday, 19 April, 2008, 20:41 GMT 01:41 PST
رفعت اللہ اورکزئی،
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستانی مغوی سفیر طارق عزیز الدین کے اغواء کاروں نے سفیر کی رہائی کے بدلے میں افغانستان کے پانچ طالبان جنگجوؤں کے علاوہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز، کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی اور بینظیر بھٹو کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث افراد سمیت بارہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
قبائلی ملک کا کہنا تھا کہ افغان طالبان قیدیوں کے نام تو تا حال معلوم نہیں ہو سکے ہیں البتہ پاکستانی قیدیوں میں لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز، تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد، شیر زمان محسود، رفاقت، حسنین، اعتزاز شاہ اور نور خان شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اغوا کار افغانستان کے پانچ طالبان جنگجوؤں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جن کو حکومت پاکستان نے مغوی فوجیوں کی رہائی کے وقت رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن بعد میں ان کو رہا نہیں کیا تھا۔
پاکستانی سفیر کی رہائی کے بدلے جن افراد کی رہائی کا مطالبہ سامنے آیا ہے ان کی اکثریت پاکستانی طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود کے حامی بتائے جاتے ہیں تاہم تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر متعدد مرتبہ پاکستانی سفیر کی اغواء سے لاعلمی کا اظہار کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز گزشتہ سال جولائی کے ماہ میں اس وقت گرفتار کئے گئے تھے جب وہ لال مسجد آپریشن کے دوران برقعہ پہن کر مسجد سے فرار ہورہے تھے۔
کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد اجکل پولیس کے سخت سکیورٹی میں پشاور کے ایک ہپستال میں زیرعلاج ہیں۔ انہیں نومبر دو ہزار ایک میں افغانستان سے پاکستان آتے ہوئے پاک افغان سرحد پر گرفتار کیا گیا تھا۔
اعتزاز شاہ، حسنین اور رفاقت کو بینظیر بھٹو کے قاتل کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور پاکستانی حکومت کا موقف
رہا ہے کہ بیت اللہ محسود نے بینظیر بھٹو کو قتل کروایا ہے۔