http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 18 April, 2008, 08:07 GMT 13:07 PST

’پاکستان فیصلے پر نظرثانی کرے‘

اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین نے کہا ہے کہ پاکستان کو چوبیس لاکھ افغان مہاجرین کو سنہ دو ہزار نو تک افغانستان بھیجنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

یو این ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی کیلیئن کلائنسمٹ نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ پاکستان کا یہ منصوبہ ناقابل عمل ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ امید کر رہا ہے کہ زیادہ تر مہاجرین اس سال واپس افغانستان چلے جائیں گے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجو انہی مہاجرین کیمپوں میں پناہ لیتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین ایسے چار مہاجرین کیمپوں کو بند کرنے پر پاکستان سے متفق ہے۔

افغان مہاجرین سوویت کے افغانستان پر قبضے ککے وقت بھاگ کر پاکستان پہنچے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کیمپوں کے بجائے شہروں میں رہتے ہیں۔

پاکستان نے افغان مہاجرین کی واپسی کے منصوبے کا اعلان دو ہزار سات میں کیا تھا جب پاک افغان تعلقات کافی خراب تھے۔

واضح رہے کہ مہاجرین کی وطن واپسی رضاکارانہ طورپر ہوتی ہے اور زیادہ تر افغان مہاجرین واپس افغانستان جانا نہیں چاہتے۔

کیلیئن کلائنسمٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ واپس بھیجے گئے مہاجرین پاکستان واپس غیر قانونی طور پر دوبارہ داخل ہوں گے۔

’اور یہ مہاجرین طالبان کے ساتھ بھی مل سکتے ہیں اور یہ عمل خطے کے استحکام کے لیے اچھا ثابت نہیں ہو گا۔‘

لیکن پاکستان کے کمشنر برائے مہاجرین عمران زیب خان کا ککہنا ہے کہ صرف پاکستان ہی کو مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے اور کوشش کریں گے کہ دو ہزار نو کا ہدف پورا ہو سکے۔

’ہم پوری کوشش کریں گے۔‘

سنہ دو ہزار ایک میں طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد پاکستان، ایران اور دیگر ممالک سے لاکھوں میں افغان مہاجرین واپس افغانستان آ گئے تھے۔