http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 18 April, 2008, 04:06 GMT 09:06 PST

عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

’ایمرجنسی عدلیہ کا گلا گھونٹنے کے لیے‘

سپریم کورٹ کے سابق سینیئرترین جج جسٹس رانا بھگوان داس کا کہنا ہے کہ تین نومبر کو ایمرجنسی لگانے اور پی سی او کے نفاذ کا واحد مقصد عدلیہ کا گلا گھونٹنا تھا۔

جسٹس ریٹائرڈ رانا بھگوان داس وکلاء کے ہفتہ وار احتجاج کے سلسلہ میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کررہے تھے۔ان کہنا تھا کہ ایمرجسنی کا مقصد ایک متوقع فیصلے سے بچنا تھا اور اسی وجہ سے ایمرجنسی لگاتے وقت نہ تو حکومتوں کو برطرف کیا گیا اور نہ ہی اسمبلیاں تحلیل کی گئیں بلکہ صرف ججوں کو ہٹایا گیا۔

وکلاء کا اعزاز
 ادھرلاہورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے اجلاس میں اعلان کیا کہ بار کے’کراچی شہداء ہال‘ میں کراچی میں ہلاک ہونے والے وکلاء شہریار اور الطاف عباسی کی تصاویر آویزاں کی جائیں گی۔
 

جسٹس داس کے بقول پرانےاور موجودہ پی او سی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پی سی او کے اجراء کے بعد جن ججوں نے ضمیر کی آواز پر حلف نہیں اٹھایا انہوں نےخود کو عہدے سے ہٹانے کےفیصلے کو قبول نہیں کیا ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنی پینشن کی کاغذات پر دستخط کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں نے ناصرف اپنی برطرفی کو قبول کرلیا تھا بلکہ اس فیصلہ کے خلاف کوئی محاذ بھی قائم نہیں کیا۔ جسٹس رانا بھگوان کا کہنا ہے کہ ماضی فرد واحد کے کیے گئے اقدامات کو آئینی تحفظ دینے کے لیے دو تہائی اکثریت سے آٹھویں اور سترہویں ترامیم لانی پڑیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں نے یہ اقرار کیا ہے کہ تیس دنوں میں معزول ججوں کوبحال کیا جائے گا۔
مشرف مخالف بینر

رانا بھگوان داس نے واضح کیا کہ تئیس نومبرکو سپریم کورٹ نےایمرجنسی کے نفاذ کوجائز قرار دینے کا جوفیصلہ دیاہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ ان کے مطابق صدر پرویز مشرف خود یہ اعتراف کرچکے ہیں انہوں نے ایک غیرقانونی اقدام کیا تھا۔ان کے بقول اگر غیر قانونی اقدام کرنے والا شخص خود اعتراف کر رہا ہے کہ اس نے غیر قانونی اقدامات کیے ہیں تو سپریم کورٹ اس کو کس طرح جواز قبولیت دے سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عدلیہ پر مختلف ادوار میں حملے ہوئےاور ہر دور میں عدلیہ کو کمروز کرنے اور تابع کرنے کی کوششیں ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک اپنی منزل کے نزدیک سے نزدیک تر ہو رہی ہے۔

ادھر ملک بھر میں عدلیہ کی بحالی کے لیے ہفتہ وار احتجاج کرتے ہوئے وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جبکہ احتجاجی اجلاسوں کے بعد ریلیاں اور جلوس نکالے۔ وکلاء تنظیموں کے فیصلے کی روشنی میں جمعرات کو ہونے والے احتجاج کو کراچی میں ہلاک ہونے والے وکلاء سے منسوب کرتے ہوئے اسے یوم شہداء کراچی کے طور پر منایاگیا۔

ان کے بقول اگر چیف جسٹس کے معیاد عہدے میں کوئی کمی کی گئی تو اس اقدام کی وکلاء اور عوام مزاحمت کریں گے۔

ادھرلاہورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے اجلاس میں اعلان کیا کہ بار کے’کراچی شہداء ہال‘ میں کراچی میں ہلاک ہونے والے وکلاء شہریار اور الطاف عباسی کی تصاویر آویزاں کی جائیں گی۔

اجلاس میں بار کے سیکرٹری رانا اسد اللہ خان نےاٹارنی جنرل آف پاکستان ملک محمد قیوم کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے ایک قرار داد بھی پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

وکلاء کے جلوس میں مسلم لیگ نون کے ارکان اسمبلی، جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کے علاوہ تحریک انصاف، خاکسار تحریک کے کارکنوں، طلبہ اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بھر پورحصہ لیا۔
مظاہرین نے صدر پرویز مشرف اور ایم کیو ایم کے خلاف نعرے لگائے جبکہ ہاتھوں میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی تصاویر تھیں۔

پنجاب اسمبلی کے سامنے خطاب کرتے ہوئے وکلا رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وکلا کے آئندہ جمعرات کو ہفتہ وار احتجاج سے قبل ہی معزول ججوں کو پارلیمنٹ قرارداد کےذریعے ان کے عہدے پر بحال کردے گی۔

اس موقع پر وکلاء رہنماؤں نے سابق وزیر شیر افگن نیازی کی طرف سے وکلاء کے خلاف درج کرائی جانے والی آیف آئی آر کی نقول کو نذر آتش کیا۔