ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی سمیت اندرون سندھ وکلاء تنظیموں نے نو اپریل کے واقعے کے خلاف جمعرات کو یوم سوگ منایا اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔
ہائی کورٹ اور سٹی کورٹس بار میں وکلاء کے احتجاجی اجلاس منعقد ہوئے، جس میں بارہ مئی کے واقعے کی دوبارہ تحقیقات اور مقتول وکلاء کے قتل میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے مطالبات کیے گئے۔
سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر رشید رضوی نے اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ چھبیس اپریل کو کراچی میں کُل پاکستان وکلاء نمائندہ کانفرنس منعقد کی جارہی ہے، جس میں سپریم کورٹ بار اور چاروں صوبوں کے بار کے عہدیداران بھی شرکت کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ چار دن بعد جب حکومت کے قیام کو تیس دن مکمل ہوں گے اس سے صرف چار روز قبل یہ اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں آئندہ حکمتِ عملی طے کی جائے گی۔
رشید رضوی کا کہنا تھا کہ وکلاء کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے، اگر خدا نہ کرے کے تیس اپریل تک ججز بحال نہیں ہوتے تو یہ تحریک جو بھی رنگ اختیار کرے گی اس کے ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ حکومت ہوگی۔
انہوں نے وکلاء کو مشورہ دیا کہ وہ خوشخبری سننے اور مزید لڑنے کے لیے تیار رہیں۔
رشید رضوی کا کہنا تھا کہ کراچی کا وکلاء تحریک میں ایک بہت بڑا حصہ ہوگیا ہے، اس تحریک کے دوران یہاں کے پانچ وکلاء راجہ ریاض، پرویز اختر کیانی، عتیق قادری، حاجی الطاف عباسی اور شہریار نے جان کی قربانی دی ہے۔