Thursday, 17 April, 2008, 23:15 GMT 04:15 PST
برطانیہ میں انگریزی زبان کے اخبار گارڈین میں شائع ہونے والی ایک خبر کہا گیا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ انسداد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے طے ہونے والی مشترکہ حکمت عملی کے تحت وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی حدود میں جاسوسی طیاروں کی پروازیں بند کر دے گا۔ اس حکمت عملی کے تحت سات ارب ڈالر سے زیادہ کا ایک امدادی پیکج آئندہ چند ماہ میں کانگریس کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا کہ پیکج میں پاکستان کو ملنے والی غیر عسکری امداد تین گنا کر دی جائے گی اور پیکج کا مقصد باہمی تعلقات کا از سر نو تعین کرنا ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر جوزف بِڈن کی طرف سے مرتب کیا جانے والا یہ امدادی پیکج امریکہ کی پاکستان کے لیے پالیسی میں واضح طور پر نئی سمت طے کرتا ہے، جس کا محور گزشتہ نو سال کے زیادہ عرصے کے دوران دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں بنیادی حلیف کے طور پر صدر پرویز مشرف اور پاکستان کی فوج تھے۔ گارڈین نے لکھا ہے کہ واشنگٹن میں حکام نے کہا ہے کہ پالیسی کی سمت پہلے ہی بدلی جا چکی ہے۔
سینیٹر بِڈن کے ایک سینیئر ساتھی نے کہا کہ ’سینیٹر بِڈن بتانا چاہتے ہیں کہ تعلقات کی بنیاد صرف عسکری تعاون نہیں ہے اور ہم ان کو دیرپا بنانا چاہتے ہیں‘۔
خبر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت کہتی ہے کہ اسے افغان سرحد کے ساتھ ساتھ آباد پشتوں قبائل سے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت میں مذاکرات کی اپنی پالیسی کے لیے امریکی حکومت کی بھی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔
اخبار مزید لکھتا ہے کہ جنوری میں امریکی خفیہ اداروں کے اعلیٰ اہلکار اسلام آباد گئے تھے جہاں انہوں نے صدر مشرف کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے تحت امریکہ کو پاکستانی علاقوں میں جاسوسی طیاروں کے ذریعے اہداف کو نشانہ بنانے میں زیادہ آزادی دی گئی تھی۔ گارڈین کے مطابق اس کے بعد ان علاقوں میں حملوں میں اضافہ ہوا اور بعض اندازوں کے مطابق ایک روز میں آٹھ حملے بھی ہوئے۔ خبر میں لکھا ہے کہ برطانیہ نے بھی ان فضائی حملوں پر انحصار پر امریکہ کی مخالفت کی تھی جن کی بنیاد بعض اوقات غیر مصدقہ اطلاعات تھیں۔
گارڈین نے پاکستانی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ انہیں امریکہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ مزید فضائی کارروائی سے پہلے سویلین حکومت سے تفصیلی مشاورت کی جائے گی نہ کہ صدر مشرف سے۔