Wednesday, 16 April, 2008, 02:56 GMT 07:56 PST
ارمان صابر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ کے صوبائی وزیرِداخلہ ذوالفقار مرزا نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ صوبے اور خاص طور پر کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر کریں گے اور عوام کو نمایاں فرق ایک ماہ ہی میں ظاہر ہونا شروع ہو جائے گا۔
انہوں نے کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ کا نام لیے بغیر کہا کہ جو معاشرہ خراب کرنے والے، بدمعاشی کرنے والے، اسٹریٹ کرائم کرنے اور کروانے والے، جو ڈاکو سندھ کے جنگلات میں اپنی کمین گاہیں بنا کر بیٹھیں ہیں اور ان سب کے سیاسی سرپرست چاہے وہ شہروں میں ہوں یا اندرونِ سندھ میں، وہ انہیں متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ اب بہت ہوچکا اور وہ یہ سب نہیں ہونے دیں گے۔
ذوالفقار مرزا نے کہا کہ ہم دوستی کرتے ہیں تو اس کی کوئی انتہا نہیں کرتے اور جب دشمنی پر آتے ہیں تو وہ بھی کھل کر کرتے ہیں جس کی کوئی حد نہیں ہوتی، اور یہ ہی ہمارا ماضی ہے، یہ ہی حال اور یہ ہی مستقبل رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ سابق صوبائی وزیر الطاف انڑ کو لاڑکانہ میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف انڑ مبینہ طور پر اغواء، گاڑیوں کی چوری، ڈاکوں، اور اسی قسم کے دیگر سنگین مقدمات میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الطاف انڑ کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں اور انہیں تمام کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایک سوال کے جواب میں کہ اس بات میں کتنی صداقت ہے کہ متحدہ قومی مومنٹ کے مخالف دھڑے ایم کیو ایم حقیقی کے صدر دفتر بیت الحمزہ کو دوبارہ تعمیر کروایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ پپلزپارٹی سیاسی تقسیم میں نہیں بلکہ سیاسی بھائی چارے کی فضاء پر یقین رکھتی ہے اور ان کی حکومت ایک سیاست دان سے سیاست دان کی طرح جبکہ ایک جرائم پیشہ سے جرائم پیشہ کی طرح سلوک کرے گی۔
جیل سے پے رول پر رہا افراد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پےرول پر رہائی ایک یا دو دن کے لیے قابلِ قبول ہے لیکن یہاں کئی افراد ایسے ہیں جن پر قتل کے الزام ہیں اور وہ پچھلے چار یا پانچ سال سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں ہے اور تمام پےرول کو منسوخ کیا جائے گا۔
پولیس کے محکموں میں بھرتیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے صرف پولیس ہی میں نہیں بلکہ ہر محکمے میں بھرتیوں پر پابندی عائد کر رکھی تھی لیکن پچھلے دروازے سے بھرتیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تمام بھرتیوں کو ختم کرنے کے بعد برخاست شدہ افراد کو یہ موقع ضرور فراہم کیا جائے گا کہ اگر وہ اپنے آپ کو اہل سمجھتے ہیں تو دوبارہ قانونی طریقے سے بھرتی کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔