Wednesday, 16 April, 2008, 22:30 GMT 03:30 PST
نثار کھوکھر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سکھر
پولیس نے بتایا ہے کہ شہباز رینجرز سکھر کے ایک میجر محمد امین بدھ کی صبح سے لاپتہ ہیں۔ سکھر پولیس کےڈی آئی جی بشیر میمن نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ میجر اغوا نہیں ہوئے وہ لاپتہ ہیں اور پولیس ان کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔
شہباز رینجرز بالائی سندھ میں جرائم روکنے اور امن امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی مدد کرنے کے لیے تعنیات ہے۔ شہباز رینجرز کے کسی افسر کے اغوا کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ شہباز رینجرز کے ترجمان سے اس سلسلے میں رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔
پولیس کے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ رینجرز کےمیجر محمد امین صبح چھ بجے کے قریب بیراج کالونی میں واقع اپنے ہیڈکوارٹر سے سیر کرنے کے لیے نکلے تھے اور انہیں اغوا کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی پولیس بشیر میمن کے مطابق وہ اتنے شریف میجر ہیں کہ انہوں نے اپنے گارڈ کو نہیں جگایا اور وہ اکیلے سیر پر نکل گئے۔انہوں امید ظاہر کی کہ انہیں جلد بازیاب کروایا جائیگا۔
بالائی سندھ میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں عروج پر ہیں۔لاڑکانہ اور سکھر پولیس رینج کے آٹھ اظلاع سے کم از کم پندرہ لوگ دو ماہ میں اغوا ہوچکے ہیں۔ لاڑکانہ کی لیڈی ڈاکٹر دیالی کے ایک قریبی رشتہ دار کو ان کےدو ہندو دوستوں سمیت لاڑکانہ جاتے ہوئے دو دن قبل سیہون کےقریب اغوا کیا گیا ہے۔
پولیس کے حکام کا کہنا ہے علاقے میں ڈاکوؤں کے پچاس کے قریب گروہ سرگرم ہیں جو اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرتے ہیں اور انہیں بااثر وڈیروں کی پشت پناہی حاصل ہے۔
سندھ میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کے خلاف نواز شریف کی حکومت کے وقت ایک بڑا آپریشن ہوا تھا جس کے بعد ان میں کمی واقع ہوئی تھی۔