http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 12 April, 2008, 14:40 GMT 19:40 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

کرم ایجنسی: فسادات کا نوواں دن

فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ قبائلی علاقہ کرم ایجنسی میں نو دن سے جاری لڑائی نے شدت اختیار کر لی ہے اور مزید چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ فساد کا دائرہ اب دیگر کئی علاقوں تک پھیل گیا ہے۔

دوسری طرف کرم ایجنسی میں امن کے قیام کے لیے سرگرم حکومتی امن جرگہ کے تین اراکین جرگہ سے احتجاجا ً علیحدہ ہوگئے ہیں۔

کرم ایجنسی سے موصول ہونے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ لوئر کرم کے صدر مقام صدہ اور اس کے اطراف میں جاری لڑائی کا دائرہ تیزی سے دیگر علاقوں تک پھیل رہا ہے۔

ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی دوپہر علیزئی کے علاقے آڑاولی میں نامعلوم افراد کی طرف سے دو گاڑیوں پر فائرنگ میں چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

گزشتہ روز بھی صدہ کے علاقے میں بھی مارٹر گولے گرنے کے دو الگ الگ واقعات میں سابق ایم این اے حاجی صالح خان کے صاحبزادے اسمعیل خان سمیت چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

ایک سرکاری اہلکار کے مطابق لوئر کرم کے علاقوں صدہ، بالش خیل، سنگینہ، خوارکلی، کوچی، ابراہیم زئی، میرو کچ اور ٹوپکی میں فریقین بدستور مورچہ زن ہیں اور ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملے کر رہے ہیں۔
علیحدہ ہونے والے ارکان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی طرف سے عدم دلچسپی کی وجہ سے جنگ بندی پر عمل درآمد ممکن نہیں ہو سکا
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سنیچر کو پہلی مرتبہ گن شپ ہیلی کاپٹروں نے فریقین کے مورچوں پر فضائی گشت کیا ہے تاہم توپ بردار ہیلی کاپٹروں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں شدید لڑائی کا سلسلہ جاری تھا۔

جرگہ کے ایک رکن حاجی عزت گل نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں فریقین کے مابین باقاعدہ فائر بند ہوچکی ہے اور کئی بار لڑائی بھی بند ہوئی لیکن سیکیورٹی فورسز کی طرف سے عدم دلچسپی کی وجہ سے جنگ بندی پر عمل درآمد ممکن نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز فوج اورایف سی کے اعلیٰ اہلکاروں نے فریقین کو مہلت دی تھی کہ تین بجے تک فائرنگ کا سلسلہ بند کردیا جائے بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی۔

ان کے مطابق حکومت کی طرف سے انتباہ کے باجود ایک فریق کی طرف سے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی نتیجتاً ایک بار پھر جھڑپوں کا آغاز ہو گیا جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

واضح رہے کہ نو مارچ کو فوج کی نگرانی میں پارہ چنار سے پشاور جانے والی مسافر گاڑیوں کے ایک قافلے پر صدہ کے علاقے میں بم حملے کے بعد علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے تھے جس میں اب تک پینتیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔ کرم ایجنسی میں گزشتہ ایک سال کے دوران تین مرتبہ فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوچکی ہیں جن میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم بظاہر حکومت اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔