Friday, 11 April, 2008, 09:19 GMT 14:19 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
صدر پرویز مشرف کی جانب سے میڈیا پر وسیع اور سخت ترین پابندیاں ختم کرنے کا بل جمعہ کے روز وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔
وزیر اطلاعات نے قومی اسمبلی میں یہ بل پیش کرنے کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے انتیس مارچ کو اپنی
پہلی پالیسی تقریر میں ذرائع ابلاغ پر پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو متعارف
کردہ میڈیا پر پابندیوں کے قوانین کو ختم کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ صدر پرویز مشرف نے تین نومبر کو پاکستان میں جو میڈیا پر پابندیاں عائد کی تھیں ان کے مطابق صدر، وزیراعظم، عدلیہ، افواج پاکستان اور اراکین اسمبلی کے خلاف تضحیک آمیز مواد کی اشاعت یا نشریات پر متعلہ ادارے اور صحافیوں کے خلاف حکومت کو کارروائی کا اختیار دیا گیا تھا۔
صدر پرویز مشرف کے ان قوانین کے تحت بغیر نوٹس کسی نشریاتی یا اشاعتی ادارے کا لائسینس منسوخ کرنے، قید اور جرمانے کی حد بھی بڑھائی گئی تھی۔
ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کردہ میڈیا پابندیوں کے خاتمے کا بل ایوان کی قانون و انصاف کے متعلق قائمہ کمیٹی کو بھیجا جائے گا جو اپنی رپورٹ کے ساتھ اس بل کو دوبارہ ایوان میں منظوری کے لیے پیش کرے گی۔
قومی اسمبلی سے یہ بل پاس ہونے کے بعد سینیٹ میں بھیجا جائے گا اور سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر کو دستخط کے لیے پیش کیا جائے گا۔
بعض مبصرین صدر پرویز مشرف کی جانب سے میڈیا پر عائد کردہ پابندیوں کو ختم کرنے کے حکومت کے اس بل کو صدر کے لیے ایک بڑا دھچکا
قرار دے رہے ہیں۔
|
|
اس کے جواب میں وزیر قانون فاروق حمید نائک نے قومی اسمبلی میں اقرار کیا کہ احتساب بیورو کو سابق حکومت نے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔
فاروق نائک نے کہا کہ راولپنڈی کی ایک ہی عمارت میں احتساب عدالت، احستاب بیورو اور ان کی جیل قائم کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ احتساب بیورو کا قیام انصاف کے اصولوں کے منافی تھا۔
’ہماری حکومت نے احتساب بیورو کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اعلان وزیراعظم کرچکے ہیں اور اب اس بارے میں وزارت قانون ضروری
اقدامات کر رہی ہے۔’
|
|
قومی اسمبلی میں مسلم لیگ نواز کے راجہ اسد اور دیگر اراکین کی جانب سے بجلی کے بحران کے بارے میں پیش کردہ تحریک التویٰ پر بحث ہوئی۔
بحث میں حصہ لینے والے اراکین نے بجلی کے بحران کا ذمہ دار سابقہ حکومت کو قرار دیا اور کہا کہ صدر پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور میں ایک یونٹ بھی بجلی پیدا کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں شروع کیا گیا۔
تحریک التویٰ پر ابھی بحث جاری تھی کہ اجلاس کی کارروائی اور بحث پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کردی گئی۔